خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 245

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۵ جلد سوم یہ بھی ثابت ہے کہ جب دو جماعتیں آپس میں ملیں تو بلند آواز سے تکبیر یا تسبیح و تحمید بھی کریں۔عید کے موقع پر بھی ایسا کرنے کا حکم ہے اور ہم کرتے ہیں مگر یہ جلوس نکالنے والے عید پر تکبیر اور تسبیح و تحمید نہیں کرتے۔ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ عید کے روز بھی یہ اسی طرح بلند آواز سے تکبیر اور تسبیح و تحمید کہتے ہوئے جائیں میرا گلا خراب ہے میں خوش الحانی کے طور پر صرف اونچی آواز نکال سکتا ہوں ہلکی نہیں نکال سکتا اور اگر آہستہ تلاوت کرنا چا ہوں یا شعر پڑھنا چا ہوں تو آواز منہ میں ہی رہ جاتی ہے یا تو آواز بالکل چھوٹی نکلے گی یا بہت بڑی۔مگر پھر بھی میں کوشش کر کے بڑی عید کے موقع پر جب ایسا کرنے کا حکم ہے تکبیر اور تسبیح وتحمید کرتا ہوں مگر یہ جلوس نکال کر شور کرنے والے چپ کر کے پاس سے گزر جاتے ہیں پس اگر اس رنگ میں جو کہ میں نے بتایا ہے اور جو اسلامی جلوس کا رنگ ہے کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔اس طرح ذکر الہی کی کثرت ثواب کا بھی موجب ہے اور دوسرے اگر نقل کریں تو ان کے دلوں میں بھی خدا کی بڑائی پیدا ہوگی اور پھر ان کو بھی ثواب ہو گا لیکن جس طرح یہاں عام طور پر جلوس نکالے جاتے ہیں ان کا ثبوت اسلامی تاریخ میں نہیں ملتا۔اسی طرح چراغاں کا سوال ہے مجھ سے میری ایک لڑکی نے سوال کیا اس نے کہا میں نے اپنے فلاں عزیز سے پوچھا تھا تو اس نے کہا کہ مجلس شوری میں حضرت (خلیفہ المسیح) نے چراغاں کرنے سے جماعت کو منع کیا تھا افراد کو نہیں۔میں نے کہا ہاں یہ درست ہے اس قدر بات بالکل درست تھی کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ میں نے افراد کو منع نہیں کیا تھا مگر اُس وقت افراد کا سوال بھی تو پیش نہ تھا۔پھر اس کے بعد یہ بازگشت میرے کانوں میں آنی شروع ہوئی کہ افراد بے شک چراغاں کریں حالانکہ شوری کے موقع پر جماعت کو منع کرنے کے یہ معنی نہیں تھے کہ افراد بے شک کریں۔اُس وقت چونکہ جماعت ہی کے بارہ میں مجھ سے سوال کیا گیا تھا میں نے اُتنا ہی جواب دے دیا۔افراد کے متعلق نہ مجھ سے پوچھا گیا اور نہ میں نے بتایا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑھیا عورت آئی جو حضرت خدیجہ کی سہیلی تھی اُس کے ساتھ بوجہ اس کے کہ وہ عمر میں بڑی تھی آپ اس قسم کی بے تکلفی فرمالیتے تھے جیسا کہ بڑوں سے انسان کر لیا کرتا ہے۔اس نے دریافت