خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 241

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۱ جلد سوم حضرت موسی کی قوم کو جتنے وقت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کے ایک تہائی زمانہ میں انہوں نے کامیابیاں دیکھ لیں۔اس لئے ان کو بھی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ایسے مظاہرے کرتے اور نقلیں کرتے۔ہمارا زمانہ بھی عیسوی زمانہ کے نقش قدم پر ہے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ ترقی موعود ہے۔اس لئے ہمارے لوگوں میں بھی لازما گدگدی پیدا ہوتی ہے کہ اگر ابھی فتح دور ہے تو فتح کے زمانہ کی نقل تو بنا ئیں۔ہندوؤں میں بعض قو میں مثلاً بھا بڑے ایسے ہیں جو گوشت کبھی نہیں کھاتے اور اس بارہ میں بڑی احتیاط کرتے ہیں مگر چونکہ اپنے ہمسائے میں ان کے کانوں میں ایسی آوازیں آتی رہتی ہیں کہ ذرا ایک بوٹی اور دینا یا یہ کہ آج کباب بنائے ہیں اور پھر گوشت کی خوشبو بھی آتی ہے اس لئے ان میں سے بعض کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جب گوشت کا بہت شوق پیدا ہو تو بڑیاں بنا لیتے ہیں اور پھر ان کو ہی بوٹیاں فرض کر لیتے ہیں اور آپس میں کہتے ہیں کہ ایک بوٹی مجھے بھی دینا، ذرا شور با اور ڈال دینا وغیرہ اور اس طرح وہ بڑی کو بوٹی کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔لڑکیوں کو دیکھ لو خدا تعالیٰ نے ان کی فطرت میں اولاد پیدا کرنا اور اس سے محبت کرنا رکھا ہوتا ہے مگر ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہوتی کہ ان کی شادی ہو اور اولاد ہو اس لئے وہ گڑیا بنا لیتی ہیں اور اسی سے پیار کرتی ہیں اور کہتی ہیں لاؤ اسے دودھ دیں۔میری بچی روتی کیوں ہے وغیرہ وغیرہ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے مگر زمانہ ابھی آیا نہیں ہوتا اس لئے وہ ایسی باتوں سے ا دل بہلا لیتی ہیں۔میں ڈرتا ہوں بلکہ میں اس کے آثار دیکھ رہا ہوں کہ اس قسم کے نقص جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں۔مظاہرات کی طرف طبیعت فطرتاً مائل ہوتی ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ چراغاں کیا جائے اور جلوس نکالے جائیں چاہے کتنی قیدیں لگا ؤ وہ پھر بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ایسا کر ہی لیا جاتا ہے۔یہاں خلافت یا خلافت جو بلی کا سوال نہیں بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیم کو قائم رکھنا ہے خلافت تو الگ رہی نبوت بھی اسلامی تعلیم کے تابع ہے کیونکہ اسلام دائمی صداقت کا نام ہے اور ہر عقلمند شخص یہ تسلیم کرے گا کہ دائمی ہر صداقت انبیاء پر بھی بالا ہے دائمی صداقت کو انبیاء کیلئے قربان نہیں کیا جا تا بلکہ انبیاء اس کیلئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ہمیشہ ادنی چیز اعلیٰ کیلئے قربان کی جاتی ہے اعلیٰ ادنیٰ کیلئے