خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 240

خلافة على منهاج النبوة ۲۴۰ جلد سوم خلافت جو بلی کے موقع پر جلوس اور چراغاں خطبه جمعه فرموده ۸/ دسمبر ۱۹۳۹ ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اخبارات میں مختلف اعلانات ” خلافت جوبلی کے متعلق نکل رہے ہیں ان اعلانات کے پڑھنے کے بعد میں بعض باتیں کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔میں نے مجلس شوری کے موقع پر بھی ان باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی مگر انسان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ نقل کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے بہ نسبت عقل کے۔کیونکہ نقل کرنا زیادہ آسان ہوتا اور عقل سے کام لینا مشکل ہوتا ہے۔یہ زمانہ عیسائیت کے فروغ کا زمانہ ہے وہ تو میں جو آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہیں ان میں مظاہرے کرنے کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جن کو یکدم غلبہ حاصل ہوتا ہے وہ چونکہ حقیقت سے آشنا ہو چکی ہوتی ہیں اور مقصود اُن کو مل چکا ہوتا ہے اسلئے اُن کو مظاہروں کی ضرورت پیش نہیں آتی۔جو ماں باپ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں انہیں ان کی تصویر میں رکھنے کا شوق اتنا نہیں ہوتا لیکن جن کے بچے ان سے دور ہوتے ہیں انہیں تصویروں کی طرف زیادہ خیال ہوتا ہے کیونکہ جب اصل انسان کے سامنے نہ ہو تو وہ نقل سے دل بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔جن قوموں کو خدا مل جاتا ہے وہ بتوں اور بت خانوں کی طرف توجہ نہیں کرتیں لیکن جن کو خدا نہیں ملا ہوتا وہ بتوں اور بت خانوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے کیونکہ کچھ نہ کچھ خدا تعالیٰ کا نقشہ ضرور چاہیے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو قریب عرصہ میں خدا تعالیٰ نے وہ باتیں دلا دیں جو اُن کے اور اُن کی قوم کے متعلق موعود تھیں اس لئے ان کی قوم میں ایسے مظاہروں کی طرف توجہ نہ تھی۔عیسائیوں کو ایک لمبے عرصہ کے بعد وہ باتیں حاصل ہوئیں اس لئے وہ درمیانی زمانہ میں مظاہرے کرتے رہے کیونکہ کچھ نہ کچھ تو دل خوش کر نے کیلئے ہونا چاہیے۔پھر مسلمانوں کو ان کے موعود انعامات بہت ہی تھوڑے عرصہ میں حاصل ہو گئے