خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 237
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۷ جلد سوم بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ ڈکٹیٹر خود قانون ساز ہوتا ہے مگر خلیفہ قانون ساز نہیں بلکہ ایک اور قانون کے تابع ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ہٹلر قانون ساز ہے مسولینی قانون ساز ہے لینن قانون ساز ہے لیکن اسلامی خلیفہ نظام اور قانون کا اسی طرح پابند ہے جس طرح جماعت کا ایک عام فرد۔وہ قانون ساز نہیں بلکہ خدائی قانون کا تابع ہوتا ہے اور اسی قانون کو وہ لوگوں سے منواتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلافت کی وجہ سے لوگوں پر وہ ظلم نہیں ہوتا جو ان ملکوں میں ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں ایک مکمل قانون قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے جس پر عمل کرنا اور دوسروں سے عمل کرا نا خلفاء کا کام ہے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں ابھی تک احکامِ خلافت کی پابندی کی وہ روح پیدا نہیں ہوئی جو اسلام لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور نہ اس نظام کی قدر و قیمت کو اس نے پوری طرح محسوس کیا ہے۔مجھے حیرت ہوئی جب میں نے اپنی جماعت کے ایک اخبار میں غیر مبائعین کے ایک انگریزی اخبار کا ایک نوٹ پڑھا جس میں وہ ہٹلر کی کتاب ”میری جدو جہد کے بعض اقتباسات درج کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی توجہ اس نئے سوشل فلسفہ کی طرف مبذول کرنی چاہیے کیونکہ بظاہر یہ ان خیالات کے خلاف معلوم ہوتا ہے جو اسلامی جمہوریت کے متعلق قبول کئے جاچکے ہیں لیکن اس تجربہ کے بعد جو جرمنی نے کیا اور اس تجربہ کے بعد جو یورپ کے بعض اور ممالک میں کیا گیا یہ امر اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہم دوبارہ تمام سوال پر غور کریں اور دیکھیں کہ اسلامی نقطہ نگاہ کیا ہے؟ گویا غیر مبائعین کے دلوں میں بھی اب یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ آج سے چھپیں سال پہلے جو تعلیم ہماری جماعت کی طرف سے پیش کی گئی تھی کہیں وہی تو درست نہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ غلطی پر ہوں اور اسلامی نظام کے سمجھنے میں انہوں نے ٹھوکر کھائی ہو۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب غیر مبائعین کے دل بھی اس نظام کی خوبی کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں اور ان پر بھی یہ امر آشکار ہو گیا ہے کہ سی نظام وہی ہے جو خلافت کے ماتحت ہو۔میں نے دیکھا ہے لوگوں میں یہ ایک مرض پیدا ہو گیا ہے کہ جس کام پر خلیفہ کا ہاتھ رہتا