خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 236
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۶ جلد سوم جرمنی میں تغییر ( خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۳۹ء) خطبہ جمعہ ے جولائی ۱۹۳۹ء میں حضور نے جرمنی میں تغیر کا ذکر کرتے ہوئے جرمنی میں جاری شدہ نظام کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ جرمنی والوں کا نیا نظام نہیں بلکہ آج سے ۱۳۰۰ سال پرانا نظام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔نیز فرمایا : - حقیقت یہ ہے کہ یہ نیا نظام نہیں بلکہ یہ وہی نظام ہے جسے اسلام نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے خلافت کی شکل میں دنیا میں قائم کیا۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج یورپ میں چونکہ یہ ایک نظام قائم ہو چکا ہے اور اس کے فوائد بھی ظاہر ہو چکے ہیں اس لئے اس کو دیکھ کر آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے مگر میں بتا تا ہوں کہ یہ صحیح نہیں۔تم ۱۹۱۴ء کا میرا وہ لیکچر نکال کر دیکھ لو جو برکات خلافت کے نام سے چھپا ہوا موجود ہے۔اس میں میں نے وہی نظام پیش کیا ہے جس کی آج یورپین حکومتیں تقلید کر رہی ہیں۔۱۹۱۴ء میں تو نہ لینن تھا نه مسولینی نه مصطفیٰ کمال پاشا تھا نہ ہٹلر۔اُس وقت میں نے یہ نظام لوگوں کے سامنے رکھا اور انہیں بتایا کہ قومی ترقی انہی اصول پر ہوسکتی ہے۔پیغامی ہمیشہ میری اس تقریر اور اسی قسم کی اور تقریروں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں دیکھو! یہ شخص خود رائی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے حالانکہ اسلام نے جو طریق بتایا ہے وہ اس ڈکٹیٹر شپ سے ہزاروں درجے بڑھ کر ہے جو یورپین ممالک میں قائم ہے بے شک ان دونوں میں ایک مشابہت بھی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح لوگ ڈکٹیٹروں کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ خلفاء کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تلقین کرتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں ایک بہت