خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 235
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۵ جلد سوم خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض ۱۷ مارچ ۱۹۳۹ء کو حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض بیان فرمائی اور فرمایا در حقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے اُس فوج کی جس فوج نے احمدیت کے دشمنوں سے مقابلہ جنگ کرنی ہے۔فرمایا۔” در حقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کچھ ہے مگرا بھی یہ جذ بہ ان کے اندر کمال کو نہیں پہنچا کہ جو نہی ان کے کانوں میں خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اُس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں نے اُن کو اُٹھا لیا ہے اور صور اسرافیل ان کے سامنے پھونکا جارہا ہے۔جب آواز آئے کہ بیٹھو تو اُس وقت اُنہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں کا تصرف اُن پر ہو رہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں۔جب وہ کہے بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں۔جب کہے کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں۔جس دن یہ روح ہماری جماعت میں پیدا ہو جائے گی اُس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا اور اُسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے اسی طرح احمدیت اپنے شکار پر گرے گی اور تمام دنیا کے ممالک چڑیا کی طرح اس کے پنچہ میں آجائیں گے اور دنیا میں اسلام کا پرچم پھر نئے سرے سے لہرانے لگ جائے گا۔“ (الفضل ۷ را پریل ۱۹۳۹ء )