خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 232
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۲ جلد سوم ہوا تھا کہ آئندہ پانچ سال میں گزشتہ تعلیمی وظائف کی رقوم وصول کی جائیں اور پھر آئندہ اسی رقم میں سے وظائف دیئے جائیں ، عام آمد سے امداد نہ کی جائے۔اور اس کیلئے ناظر بیت المال کو ذمہ دار مقرر کیا گیا تھا یہ پانچ سال ۱۹۳۵ء میں پورے ہوتے تھے اور ۱۹۳۵ء کے بعد وظائف اسی وصول شدہ رقم میں سے دیئے جانے چاہئیں تھے۔لیکن تین سال ہو چکے ہیں مگر وظائف برا برخزانہ سے ادا کئے جارہے ہیں۔شوری کے ممبروں میں سے ایک کو یہ بات یاد آئی اور اس نے اعتراض کر دیا کہ جب یہ فیصلہ ہوا تھا تو اس پر کیا کارروائی کی گئی اور اب وظائف گزشتہ وظائف کی وصول شدہ رقوم میں سے دئیے جاتے ہیں یا سلسلہ کے خزانہ پر ہی بوجھ ہے۔اور اگر ایسا ہے تو کیوں؟ اب ظاہر ہے کہ اگر اس تنقید کا دروازہ بند کر دیا جائے تو سلسلہ کیوں تباہ نہ ہوگا اور اسے ناظروں کی بے رُعبی کے ڈر سے کیونکر روکا جاسکتا ہے تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی ناظر نماز نہ پڑھے اور ہم اسے کہیں تو کہا جائے کہ اس بات سے ناظروں کی بے رُعبی ہوتی ہے۔لیکن میں کہوں گا کہ اس کے نہ کہنے سے سلسلہ کی بے دُعبی ہوتی ہے۔پس یہ اعتراض روکا نہیں جاسکتا تھا اور اس کیلئے جواب دینا ضروری تھا۔عام پارلیمنوں میں یہ قاعدہ ہے کہ وزراء بعض دفعہ کو ئی ٹلا واں جواب دے دیتے ہیں تا اس پر مزید جرح نہ ہو سکے اور بات مخفی رہے لیکن یہاں یہ نہیں ہوسکتا۔بحیثیت خلیفہ میرا فرض ہے کہ صحیح جواب دلواؤں۔پہلے اس سوال کے ایسے جواب دیئے گئے جو ٹالنے والے تھے مگر آخر اصل جواب دینا پڑا کہ اس فیصلہ پر عمل نہیں کیا گیا۔اب اگر اس میں نظارتوں کی بے رعبی ہوئی تو اس کی ذمہ دار نظارت ہے۔اگر اس قسم کی تنقید کو روک دیا جائے تو سلسلہ کا نظام ایسا گر جائے گا کہ اس کی کوئی قیمت نہ رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ بعض دفعہ شوریٰ بھی غلط فیصلے کر دیتی ہے۔مثلاً اسی سال کی مجلس شوری میں پہلے ایک مشورہ دیا گیا اور پھر اس کے خلاف دوسرا مشورہ دیا گیا جس کی طرف مجھے توجہ دلانی پڑی۔تو ایسی غلطیاں مجلس شوری بھی کرسکتی ہے ، انجمن بھی کر سکتی ہے اور خلیفہ بھی کرسکتا ہے۔بلکہ بشریت سے تعلق رکھنے والے دائرہ کے اندر انبیاء بھی کر سکتے ہیں۔جو بالکل غلطی نہیں کر سکتا وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ شوری کو تنقید کا جو حق ہے وہ مار دیا جائے۔گوشوری غلطی کر سکتی ہے مگر