خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 228
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۸ جلد سوم۔جب جماعت کے مختلف افراد مل کر ایک مشورہ دیں اور خلیفہ اسے قبول کر لے تو وہ جماعت میں سب سے بڑی آواز ہے۔اور ہر خلیفہ کا فرض ہے کہ وہ دیکھے جس مشورہ کو اس نے قبول کیا ہے اس پر کارکن عمل کرتے ہیں یا نہیں اور کہ اس کی خلاف ورزی نہ ہو۔یہ دومختلف پہلو ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کی وجہ سے دونوں فریق اعتراض کرتے ہیں۔جب میں جماعت کے دوستوں کو ان کی غلطی کی وجہ سے سمجھاتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ ضمیر کی حریت کہاں گئی اور جب میں دیکھوں کہ ناظروں نے غلطی کی ہے اور اُن کو گرفت کروں تو بعض دفعہ ان کو بھی شکوہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رُکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔مگر مجھ پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا فرض ہے جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کرسکتا اور در اصل خلافت کے معنی ہی یہ ہیں۔دوسرا حصہ اس سوال کا یہ ہے کہ ناظروں پر تنقید خلیفہ کی تنقید کی وجہ سے ہوتی ہے۔مجھے اس کے تسلیم کرنے سے انکار ہے۔اگر اسی مجلس شوریٰ کو لے لیا جائے تو جس حصہ پر میں نے تنقید کی ہے اُس پر میری تنقید سے پہلے بہت سی تنقید ہو چکی تھی اور میں نے جو تنقید کی وہ بعد میں تھی اور شوریٰ کے ممبر بہت سی تنقید پہلے کر چکے تھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ناظر تنقید سے گھبراتے کیوں ہیں۔ان کا مقام وہ نہیں کہ تنقید سے بالا سمجھا جا تا ہو۔ہر کارکن خلیفہ نہیں کہلا سکتا۔میرے نزدیک اس بارہ میں جماعت اور ناظر دونوں پر ذمہ داری ہے۔جماعت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خیال رکھیں کہ ان میں سے جولوگ سلسلہ کیلئے اپنی زندگیوں کو وقف کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ان کا مناسب احترام کیا جائے۔اور ناظروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جماعت کی تنقید کو ایک مخلص بھائی کے مشورہ کے طور پر سنیں کیونکہ ان کا مقام تنقید سے بالا نہیں ہے۔پارلیمنٹوں میں تو وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جس کی حد نہیں مگر پھر بھی وزراء کے رعب میں فرق نہیں آتا۔یہاں تو میں روکنے والا ہوں مگر وہاں کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے ، سخت تنقید کو نہیں بلکہ اسے ملک کی ترقی کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے پس اس تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئے۔اگر تنقید کا کوئی پہلو غلط ہو تو ثابت کریں کہ وہ غلط ہے اور اگر وہ صحیح ہے تو بجائے گھبرانے کے اپنی اصلاح کریں۔بعض باتیں ایسی