خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 226

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۶ جلد سوم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ میں اُجرت مانگتا ہی نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے نہیں مانگتا جس کا یہ مطلب ہے کہ مجھے اُجرت خدا تعالیٰ سے مل رہی ہے۔پس میرا فرض ہے کہ میں اس بات کا خیال رکھوں کہ یہ اصل ہماری جماعت میں قائم ہو۔اور اگر اس میں غلطی ہو اور میرے پاس شکایت آئے تو میں اس بات کا خیال رکھوں گا کہ غریب سے غریب آدمی کا حق بھی مارا نہ جائے اور اس بات کا خیال نہیں رکھوں گا کہ اس کا حق دلانے میں ناظر کی ہتک ہوتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا حق ہے جو بہر حال لیا جائے گا خواہ اس میں کسی بڑے آدمی کی ہتک ہو یا چھوٹے کی۔لیکن اس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کارکنوں کو جماعت میں ایک اعزاز حاصل ہے اور اگر کوئی فردا سے نہیں سمجھتا یا ان کی طرف سے جو آواز اُٹھتی ہے اس پر کان نہیں دھرتا اور اپنی دنیوی و جاہت کے باعث ناظر کو اپنے درجہ سے چھوٹا سمجھتا ہے تو یقیناً وہ جماعت کا مخلص فرد نہیں۔اُس کے اندر منافقت کی رگ ہے جو اگر آج نہیں تو کل ضرور پھوٹے گی۔پھر ناظروں کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ مجلس شوری اپنے مقام کے لحاظ سے صدرانجمن پر غالب ہے۔اس میں براہ راست اکثر جماعتوں کے نمائندے شریک ہو کر مشورہ دیتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ابھی بیرونی ممالک کی جماعتوں کے نمائندے شریک نہیں ہو سکتے لیکن جب ان میں بھی امراء داخل ہو جائیں گے یا جماعتیں زیادہ ہو جائیں گی اور وہ اپنے نمائندوں کے سفر خرچ برداشت کر سکیں گی اور سفر کی سہولتیں میسر ہوں گی مثلاً ہوائی جہازوں کی آمد ورفت شروع ہو جائے گی تو اُس وقت ان ممالک کے نمائندے بھی اس میں حصہ لے سکیں گے۔پس مجلس شوری جماعت کی عام رائے کو ظاہر کرنے والی مجلس ہے اور خلیفہ اُس کا بھی صدر اور رہنما ہے۔انبیاء کو بھی اللہ تعالیٰ نے مشورہ کا حکم دیا ہے اور خلافت کے متعلق تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَا خِلافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ ظیفہ کو یہ حق تو ہے کہ مشورہ لے کر رڈ کر دے لیکن یہ نہیں کہ لے ہی نہیں۔مشورہ لینا بہر حال ضروری ہے اور جب وہ مشورہ لیتا ہے تو قدرتی بات ہے کہ وہ اسے رڈ اسی صورت میں کرے گا کہ جب سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میری ذمہ داری کا یہی تقاضا ہے۔اگر وہ شریف آدمی ہے اور جب اسے خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ سمجھا جائے تو اس کی شرافت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔تو وہ سوائے