خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 222

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۲ جلد سوم بھی غلطی کر سکتا ہے تو خلیفہ کی کیا حیثیت ہے۔پس یقیناً خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے۔سوال یہ نہیں کہ امکان کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ موقع کا تقاضا کیا ہے۔یہ عین ممکن ہے کہ ایک باپ اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق فیصلہ کرنے میں غلطی کر جائے۔لیکن کیا اس غلطی کے امکان کی وجہ سے اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق انتظام کا اسے جو حق ہے وہ مارا جاتا ہے۔ساری دنیا بالاتفاق اس بات کو مانتی ہے کہ باپ خواہ فیصلہ غلط کرے یا درست اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق بہر حال اسی کو ہے۔یہی صورت خلیفہ کے بارہ میں ہے۔اس کی نسبت غلطی کا امکان منسوب کر کے اس کی ذمہ واری کو اُڑایا نہیں جاسکتا۔لیکن میدادنی تمثیل ہے۔باپ اور خلیفہ کے مقام میں کئی فرق ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری شریعت کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ جسے خلیفہ بناتا ہے اُس سے ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کیلئے نقصان کا موجب ہو۔گویا عصمت کبریٰ تو بطور حق کے انبیاء کو حاصل ہوتی ہے لیکن عصمت صغریٰ خلفاء کو بھی حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں وعدہ فرماتا ہے کہ جو کام خلفاء کریں گے اُس کے نتیجہ میں اسلام کا غلبہ لازمی ہوگا۔ان کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں ، ادنی کو تا ہیاں ہو سکتی ہیں مگر انجام کا نتیجہ یہی ہو گا کہ اسلام کو غلبہ اور اس کے مخالفوں کو شکست ہوگی۔یہ خلافت کیلئے ایک معیار قائم کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَليُمَيِّنَ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ ، دین کے معنی مذہب کے بھی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے بھی دیکھ لو خلفاء اربعہ کا ہی مذہب دنیا میں قائم ہوا ہے۔بے شک بعض علیحدہ فرقے بھی ہیں مگر وہ بہت اقلیت میں ہیں۔اکثریت اُسی دین پر قائم ہے جسے خلفاء اربعہ نے پھیلایا۔مگر دین کے معنی سیاست و حکومت کے بھی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جس سیاست اور پالیسی کو وہ چلائیں گے اللہ تعالیٰ اسے ہی دنیا میں قائم کرے گا اور بوجہ اس کے کہ ان کو عصمت صغریٰ حاصل ہے خدا تعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی۔بے شک بولنے والے وہ ہوں گے ، زبانیں انہی کی حرکت کریں گی ، ہاتھ انہی کے چلیں گے اور پیچھے دماغ انہی کا کام کرے گا مگر دراصل ان سب کے پیچھے خدا تعالیٰ ہوگا۔کبھی ان سے جزئیات میں غلطیاں ہوں گی ،کبھی ان کے مشیر غلط مشورہ دیں