خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 220
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۰ جلد سوم خلیفہ کا مقام -1 مجلس شوریٰ میں تنقید کے اصول ۲۔جماعت احمد یہ اور حکام کے تعلقات ( فرموده ۲۲ /اپریل ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔”میرے سامنے ایک سوال اُٹھایا گیا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ مجھے جماعت کے سامنے اپنے خیالات کے اظہار کی ضرورت ہے تا جس جس حصہ میں کوئی نقص ہے اس کی اصلاح ہو سکے۔مجھ سے کہا گیا ہے کہ مجلس شوری کے موقع پر ناظروں کے کام پر جس رنگ میں تنقید کی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں ناظروں کے کام میں رُکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور ان کا مقام جماعت کی نگاہ میں گر جاتا ہے اور یہ کہ اس تنقید کا موجب وہ تنقید ہوتی ہے جو کبھی میری طرف سے ناظروں کے کام پر کی جاتی ہے۔میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ اگر وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کے کام کی باگ ڈور ہو اُن کی حیثیت اور مقام لوگوں کی نظروں سے گرا دیا جائے اور لوگوں میں ان کی سبکی کر دی جائے تو کام میں وقتیں ضرور پیدا ہوتی ہیں۔اگر یہ امر واقعہ ہو کہ موجودہ حالات میں ناظروں کا مقام اور ان کی حیثیت اور ان کے عہدے کا اعزاز او را کرام کم ہو گیا ہو اور لوگوں کی نظروں میں اُن کی عزت نہ رہی ہو تو اس میں شک نہیں کہ ان کو کام میں وقتیں پیدا ہوسکتی ہیں اور ہونے کا خطرہ ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اس سوال کے کئی حصے ہیں اور وہ الگ الگ توجہ کے محتاج ہیں۔پس میں انہیں علیحدہ علیحدہ لیتا ہوں۔