خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 219

خلافة على منهاج النبوة ۲۱۹ جلد سوم حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات ہو گئی تو اُس وقت میں نے اپنے دوستوں کو اس بات پر تیار کر لیا کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کسی جماعت میں سے ہو تو ہم ان لوگوں میں سے ( جو اب غیر مبائع ہیں ) کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔اور پھر میرے اصرار پر میرے تمام رشتہ داروں نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ اس امر کو تسلیم کر لیں تو اول تو عام رائے لی جائے۔اور اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے اور میں یہ فیصلہ کر کے خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی۔چنانچہ گزشتہ سال حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے بھی حلفیہ بیان شائع کرایا تھا کہ میں نے حافظ صاحب کو اُنہی دنوں کہا تھا کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنا دے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا ' لیکن اللہ تعالیٰ نے دھکا دے کر مجھے آگے کر دیا۔تو اللہ تعالیٰ جس کو بڑا بنانا چاہے وہ دنیا کے کسی کو نہ میں پوشیدہ ہو خدا تعالیٰ اُس کو نکال کر آگے لے آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں (الفضل ۱۰ مارچ ۱۹۳۸ء ) ہوسکتی“۔الفضل ۱۰ را پریل ۱۹۳۸ء الفضل ۲ را گست ۱۹۳۷ء