خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 204

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۴ جلد سوم شیخ عبد الرحمن صاب مصری کی تسلی کے لئے قسموں کا اعلان خطبہ جمعہ ۱۲/ نومبر ۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی تسلی کے لئے قسموں کا اعلان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے اپنے خط میں تسلیم کیا ہے کہ وہ دو سال سے خفیہ تحقیق میرے خلاف کر رہے تھے اور اس بارہ میں لوگوں سے گفتگو کیا کرتے تھے۔اگر جس دن انہیں میرے متعلق شبہ پید ا ہوا تھا اور میرے خلاف انہیں کوئی بات پہنچی تھی اُسی دن وہ میرے پاس آتے اور کہتے کہ میرے دل میں آپ کے متعلق یہ شبہ پیدا ہو گیا ہے تو میں یقیناً انہیں جواب دیتا اور اپنی طرف سے اُن کو اطمینان دلانے اور ان کے شکوک کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتا۔چنانچہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے دیانت داری سے اپنے شکوک پیش کر کے ان کا ازالہ کرنا چاہا اور میں ان پر ناراض نہیں ہوا بلکہ میں نے ٹھنڈے دل سے اُن کی بات کو سُنا اور آرام سے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی۔اور میں سمجھتا ہوں اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو ایسے لوگ بھی میں پیش کر سکتا ہوں جو اب احمدی نہیں اور وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ انہوں نے مخفی طور پر اپنے بعض شکوک کے متعلق مجھ سے تسلی چاہی اور میں نے نہایت خندہ پیشانی سے ان کی باتوں کا جواب دیا۔لیکن جو شخص پہلے مجھے مجرم قرار دیتا ہے اور پھر مجھ سے تسلی چاہتا ہے اُس کی تسلی کرنے کے کوئی معنی نہیں۔جس نے فیصلہ کر لیا کہ میں مجرم ہوں، جس نے فیصلہ کر لیا کہ مجھ میں فلاں فلاں عیوب پائے جاتے ہیں اُس کی تسلی کرنی بالکل بے معنی بات ہے۔پس مجھے ان کے طریق پر اعتراض ہے ورنہ وسو سے بعض کمزور انسانوں کے قلوب میں پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔مجھے جس بات پر اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے خفیہ کا رروائی