خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 205
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۵ جلد سوم کی اور خفیہ طور پر لوگوں کو بہکایا۔چنانچہ اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ ادھر جماعت سے وہ نکلے اُدھر حکیم عبد العزیز صاحب نے کہہ دیا کہ میں جماعت سے الگ ہوتا ہوں اور وہ جھٹ مصری صاحب کے ساتھ شامل ہو گئے۔پھر مصری صاحب نے بھی اپنے خط میں یہی لکھا تھا کہ فخر الدین کو اگر آپ نے معاف نہ کیا تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔گویا میری وجہ سے وہ جماعت سے الگ نہیں ہوئے بلکہ اس لئے ہوئے کہ فخر الدین کو کیوں معاف نہیں کیا گیا۔پس صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ ایک پارٹی تھی جو اندر ہی اندر خفیہ منصو بے کر رہی تھی۔چنانچہ ابتدائی رپورٹیں جو میرے پاس پہنچیں ان میں میاں فخر الدین صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب ،مصری، حکیم عبد العزیز صاحب اور میاں مصباح الدین صاحب ان چاروں کے نام علاوہ بعض دوسرے ناموں کے آتے رہے ہیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کیوں نہ فرض کر لیا جائے کہ رپورٹ دینے والوں نے جھوٹ بولا۔یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ شروع سے ایک پارٹی تھی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ رپورٹ دینے والوں کو کیا پتہ تھا کہ کسی وقت یہ چاروں علیحدہ بھی ہو جائیں گے۔انہوں نے ایک رپورٹ کی اور وقوعہ نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا بلکہ سچ کہا ورنہ وجہ کیا ہے کہ ادھر میاں فخر الدین صاحب ملتانی جماعت سے نکالے جاتے ہیں اور اُدھر شیخ عبد الرحمن صاحب مصری بھی نکل جاتے ہیں۔وہ علیحدہ ہوتے ہیں تو میاں عبد العزیز حکیم اور میاں عبدالرب بھی فسخ بیعت کا اعلان کر دیتے ہیں اور میاں مصباح الدین صاحب سے بھی ایسی حرکات سرزد ہوتی ہیں کہ انہیں جماعت سے الگ کرنا پڑتا ہے۔یہ باتیں ثبوت ہیں اس بات کا کہ ان میں خفیہ کارروائیاں ہوتی رہی تھیں اور یہی تقویٰ کے خلاف فعل ہے۔اگر پہلے دن ہی جب انہوں نے میرے متعلق کوئی بات سنی تھی میرے پاس آتے اور مجھ سے کہتے کہ میں نے فلاں بات سنی ہے مجھے اس کے متعلق سمجھایا جائے تو جس رنگ میں بھی ممکن ہوتا میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا اور گو تسلی دینا خدا کا کام ہے میرا نہیں مگر اپنی طرف سے میں انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا۔لیکن انہوں نے تقویٰ کے خلاف طریق اختیار کیا اور پھر ہر قدم جو انہوں نے اُٹھایا وہ تقویٰ کے خلاف اُٹھایا۔چنانچہ جب انہوں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھ پر