خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 199

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۹ جلد سوم بیعت کرنے کیلئے تیار تو ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیا؟ وہ کہنے لگا میری شرط یہ ہے کہ آپ تو خیر اب عرب کے بادشاہ بن ہی گئے ہیں لیکن چونکہ میری قوم عرب کی سب سے زیادہ زبر دست قوم ہے پس میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کے بعد میں عرب کا بادشاہ ہوں گا۔آپ نے فرمایا میں کوئی وعدہ نہیں کرتا۔یہ خدا کا انعام ہے وہ جسے چاہے گا دے گا۔اس پر وہ ناراض ہو کر چلا گیا اور اپنی تمام قوم سمیت مخالفت پر آمادہ ہو گیا۔تو مسیلمہ کذاب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بادشاہت ملنے کی آرزو کی تھی ، زندگی میں نہیں۔یہی حال عبد اللہ بن ابی بن سلول کا تھا۔چونکہ منافق اپنی موت کو ہمیشہ دور سمجھتا ہے اور وہ دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے اس لئے عبد اللہ بن اُبی بن سلول بھی اپنی موت کو دور سمجھتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔وہ یہ قیاس آرائیاں کرتا رہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں عرب کا بادشاہ بنوں گا۔لیکن اب اس نے دیکھا کہ ابو بکر کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف نہیں لاتے تو ابو بکر آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فتویٰ پوچھنے کا موقع نہیں ملتا تو مسلمان ابو بکر سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی بن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی امید لگائے بیٹھا تھا سخت فکر لگا اور اُس نے چاہا کہ اس کا ازالہ کرے۔چنانچہ اسی امر کا ازالہ کرنے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہوں سے گرانے کے لیے اس نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے نفرت پیدا ہو اور حضرت عائشہؓ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ ابو بکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو اعزاز حاصل ہے وہ کم ہو جائے اور ان کے آئندہ خلیفہ بنے کا کوئی امکان نہ رہے۔چنانچہ اسی امر کا اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ذکر کرتا اور فرماتا ہے۔ان الَّذِينَ جَاءَ بِالافْكِ عُصْبَةً نكُمْ کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عائشہ پر اتہام لگایا وہ تم لوگوں میں سے ہی مسلمان کہلانے والا ایک جتھا ہے مگر فرماتا ہے لا تَحْسَبُوهُ شَرا لكُم، بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُم ٢٥ |