خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 194
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۴ جلد سوم یعنی سورۃ نور کے پانچویں رکوع کا اِس کے نویں رکوع تک تو خلافت سے جوڑ ہوا لیکن جو پہلے چار رکوع ہیں اور جن میں بدکاری اور بدکاری کے الزامات کا ذکر آتا ہے اُن کا اِس ہے۔جب تک یہ جوڑ بھی حل نہ ہو اُس وقت تک قرآن کریم کی ترتیب ثابت سے کیا تعلق۔نہیں ہو سکتی۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ پہلے چار رکوعوں کا باقی پانچ رکوعوں سے جن میں خلافت کا ذکر آتا ہے کیا تعلق ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ پہلے چار رکوعوں میں بدکاری کے الزامات کا ذکر اصل مقصود ہے اور ان میں خصوصاً اس الزام کا رڈ کرنا مقصود ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگانے والوں نے الزام لگایا تو اس کی اصل غرض کیا تھی۔اس کا سبب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی دشمنی تھی۔ایک گھر میں بیٹھی ہوئی عورت سے جس کا نہ سیاسیات سے تعلق ہو ، نہ قضا سے ، نہ عہدوں اور اموال کی تقسیم سے ، نہ لڑائیوں سے ، نہ مخالف اقوام پر چڑھائیوں سے ، نہ حکومت سے ، نہ اقتصادیات سے، اس سے کسی نے کیا بغض رکھنا ہے۔غرض حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہِ راست بغض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔پس اس الزام کے بارہ میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ الزام سچا ہو جس امر کو کوئی مومن ایک منٹ کیلئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ نے عرش سے اس گندے خیال کو رڈ کیا ہے۔دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عائشہ پر الزام بعض دوسرے وجودوں کو نقصان پہنچانے کے لئے لگایا گیا ہو۔اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون کون لوگ تھے جن کو بدنام کرنا منافقوں کے لئے یا ان کے سرداروں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔ایک ادنی تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے۔کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھی اور ایک کی بیٹی تھیں۔یہ دونوں وجود ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی یا اقتصادی لحاظ سے یا دشمنیوں کے لحاظ سے