خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 191
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۱ جلد سوم بے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ۔پھر شادیوں کا ذکر کرتا ہے اور اس پر چوتھا رکوع ختم ہو جاتا ہے۔گویا پہلے رکوع سے لے کر چوتھے رکوع تک سب میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔کسی جگہ الزام لگانے والوں کے متعلق سزا کا ذکر ہے، کسی جگہ الزامات کی تحقیق کے طریق کا ذکر ہے، کسی جگہ شرعی ثبوت لانے کا ذکر ہے، کسی جگہ ایسے الزامات لگنے کی وجوہ کا ذکر ہے، کسی جگہ اُن دروازوں کا ذکر ہے جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔غرض تمام آیتوں میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے مگر اس کے معا بعد فرماتا ہے اللہ نور السموات والارض کے اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اب انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کا پہلے رکوعوں سے کیا تعلق ہے؟ ایک ایسا مفسر جو یہ خیال کرتا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں وہ بے ربط کلام ہے اس کی آیتیں اسی طرح متفرق مضامین پر مشتمل ہیں جس طرح دانے زمین پر گرائے جائیں تو کوئی کسی جگہ جا پڑتا ہے اور کوئی کسی جگہ وہ تو کہہ دے گا اِس میں کیا حرج ہے۔پہلے وہ مضمون بیان کیا گیا تھا اور اب یہ مضمون شروع کر دیا گیا ہے۔مگر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے واقف ہے جو جانتا ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ ایک ترتیب رکھتا ہے وہ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ پہلے تو بدکاری کے الزامات اور ان کو دور کرنے کا ذکر تھا اور اس کے معا بعد یہ ذکر شروع کر دیا گیا ہے کہ الله نور السموت والارض ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا۔پھر انسان اور زیادہ حیران ہو جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ پانچویں رکوع میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نُورُ السّموات والارض اور اس سے دور کوع بعد یعنی ساتو میں رکوع میں اللہ تعالیٰ یہ ذکر شروع کر دیتا ہے کہ وعد الله الذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلحت ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۱۸ که الله تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجالائے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ پہلے زنا کے الزامات کا ذکر ہے۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگنے کا بیان ہے۔پھر ان الزامات کے ازالہ کے طریقوں کا ذکر ہے۔پھر