خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 190
خلافة على منهاج النبوة الزام ۱۹۰ جلد سوم لگانے والوں کا ذکر اور ان کی سزا کا بیان کیا ان کی سزا کا بیان کیا ہے۔پھر فرماتا ہے إلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذلِكَ وَاصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ تِّ حِيم ن اس کے بعد و الَّذِينَ يَرْمُونَ ازْوَاجَهُمُ ا میں ان لوگوں کا ذکر کیا جو اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں۔پھر ان الذين جاءو بالا فكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ " کہہ کر مخصوص طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کا ذکر کرتا ہے۔پھر الزام لگانے کے نقائص بیان فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا ہے لهُمْ عَذاب اليم، في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَ اللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَوْلا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَانَّ اللهَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ یہاں دو رکوع سورة نور کے ختم ہو جاتے ہیں۔پھر اسی مضمون کو اگلے رکوع میں بھی جاری رکھتا اور فرماتا يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطي " پھر اس شبہ کا ازالہ کرتا ہے کہ شاید صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانا کوئی اہمیت رکھتا ہے۔عام الزام ایسے خطر ناک نہیں ہوتے اور فرماتا ہے ان الذين يرمُونَ الْمُحْصَنَتِ الْغَيْلَتِ الْمُؤْمِنَتِ لعنوا في الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُ اس کے بعد چوتھا رکوع شروع ہوتا ہے اور پھر اسی سلسلہ میں مختلف ہدایات دی گئی ہیں کہ ان الزامات کے مراکز کو کس طرح روکنا چاہئے۔چنانچہ فرماتا ہے يايها الذين امنوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ ياَيُّهَا الَّذِينَ حتى تستأنسُوا وَ تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ١٥ اس موقع پر ایک دوست محمد احمد صاحب مالک محمود الیکٹرک سٹور قادیان نے ٹارچ لا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔اس پر حضور نے ہاتھ سے بتایا کہ اس ٹارچ کے اندر جو بلب ہے اس کی باریک تاریں مصباح ہیں اور وہ گول شیشہ جس میں بلب رکھا جاتا ہے وہ زجاجہ ہے اور اس کا بیرونی دائرہ طاقچه یاری فلیکٹر ہے جو روشنی کو لمبا کر کے آگے کی طرف پھینکتا ہے۔گویا تیرہ سو سال ترقی کرنے کے باوجود سائنس روشنی کے متعلق اسی مقام پر آکر ۱۵ ٹھہری ہے جو قرآن کریم نے بتایا تھا اس سے آگے نہیں بڑھی )۔پھر اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ بدی سے محفوظ رہنے کے ذرائع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا