خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 188
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۸ جلد سوم جاتی ہے۔چھ چھ آنے کے جو دیوار گیر آتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ ریفلیکٹر لگا ہوا ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ دیوار گیر کی روشنی زیادہ دور تک جاتی ہے۔اسی طرح خلافت وہ ری فلیکٹر ہے جو نبوت اور الوہیت کے نور کو لمبا کر دیتا اور اسے دور دور تک پھیلا دیتا ہے۔پس مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافت ، نبوت اور الوہیت کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارے نور کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بتی کا شعلہ۔وہ ایک نور ہے جو دنیا کے ہر ذرہ سے ظاہر ہو رہا ہے مگر جب تک وہ نبوت کے شیشہ میں نہ آئے لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔جیسے نیچر پر غور کر کے اللہ تعالیٰ کی ہستی معلوم کرنے کا شوق رکھنے والے ہمیشہ ٹھوکر کھاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت أولي الألباب ل بالكل درست ہے۔اور زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی آیات پائی جاتی ہیں مگر یہی خلق السموت والارض یورپ کے فلاسفروں کو دہریہ بنا رہی ہے۔گویا خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْض میں اللہ تعالیٰ کا جو نور ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بتی کا شعلہ۔یہ شعلہ جب نکلتا ہے تو اس کے ساتھ دُھواں بھی اُٹھتا ہے جو بعض دفعہ نزلہ پیدا کر دیتا اور آنکھوں کو خراب کرتا ہے۔وہ دُھواں تب ہی دور ہوتا ہے جب اس پر چمنی یا گلوب رکھ کر اسے روشنی کی صورت میں تبدیل کر دیا جائے۔اگر اس کے بغیر کوئی اس شعلہ سے نور کا کام لینا چاہئے تو اسے ضرور کچھ نور ملے گا اور کچھ دُھواں، جو اس کی آنکھوں اور ناک کو تکلیف دے گا۔چنانچہ اسی وجہ سے جو شخص نیچر پر غور کر کے خدا تعالی کو پانا چاہتا ہے تو وہ کئی ٹھوکر میں کھاتا ہے اور بعض دفعہ بجائے خدا تعالیٰ کو پانے کے دہر یہ ہی ہو جاتا ہے۔مگر جو شخص خدا تعالیٰ کے وجود کو نبوت کی چمنی کی مدد سے دیکھنا چاہتا ہے اس کی آنکھیں اور اس کا ناک دھویں کے ضرر سے بالکل محفوظ رہتے ہیں اور وہ ایک نہایت لطیف اور خوش کن روشنی پاتا ہے جوسب کثافتوں سے پاک ہوتی ہے۔غرض کا ئنات عالم پر غور کر کے خدا تعالیٰ کے وجود کو پانے والوں کیلئے خدا تعالیٰ نے کچھ ابتلا ءر کھے ہیں، کچھ شکوک رکھے ہیں، کچھ شبہات رکھے ہیں تا وہ مجبور ہو کر نبوت کی چمنی