خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 179

خلافة على منهاج النبوة وو جلد سوم کہ ان کو بنانے والا کوئی ہونا چاہئے اور ہماری دلیل ختم ہو جاتی ہے۔مگر جب خدا ہمیں مخاطب کرتا اور فرماتا ہے انى انا اللہ یقیناً میں ہی خدا ہوں تو یہ اب ” ہے “ بن گیا اور ہونا چاہئے کی حد سے اس نے ہمیں نکال دیا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی گھر میں آگ جل رہی ہو ، چولہے پر ہنڈیا چڑھی ہوئی ہو ، ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز آرہی ہو تو ہم باہر سے اس آواز کوسُن کر یہ نتیجہ نکالیں کہ اس گھر کا کوئی مالک ہونا چاہئے کیونکہ ہم غور اور فکر کرنے کے بعد فورا اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ کوئی شخص ہوگا جو یہ ہنڈ یا پکا رہا ہوگا ، کوئی شخص ہوگا جس نے آگ جلائی ہوگی اور کوئی شخص ہو گا جو گوشت وغیرہ لایا ہو گا مگر اس قدر نتائج نکالنے کے بعد بھی ہم اسی حد تک پہنچیں گے کہ گھر کا کوئی مالک اندر ہونا چاہئے۔اس نتیجہ پر ہم نہیں پہنچ سکتے کہ وہ شخص اندر ہے بھی۔ممکن ہے کوئی کہے اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہو سکتی ہے۔جب آگ جل رہی ہے، ہنڈیا چولہے پر چڑھی ہے ، اس کے اُبلنے اور جوش کھانے کی آواز آ رہی ہے تو اس سے ہم یہ نتیجہ کیوں نہیں نکال سکتے کہ اندر واقعہ میں کوئی شخص موجود ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان تمام قرائن کے باوجود ہم یقینی طور پر یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ اندر کوئی مالک موجود ہے۔فرض کرو اندر واقعہ میں کوئی شخص ہو اور اس نے ہنڈیا چولہے پر چڑھائی ہو مگر ہنڈیا چو لہے پر رکھتے ہی وہ مر گیا ہو اور ہم یہ سمجھتے ہوں کہ اندر وہ موجود ہے حالانکہ وہ مر چکا ہو۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی بیٹھے بیٹھے دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے اور وہ اُسی وقت مر جاتے ہیں۔پس ممکن ہے وہ دل کی حرکت بند ہو جانے کی وجہ سے مرا پڑا ہو۔یا ممکن ہے اسے کسی سانپ نے کاٹا ہو اور وہ مر چکا ہو۔یا بعض دفعہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہنڈیا رکھنے کے بعد ا سے کوئی ضروری کام یاد آ گیا ہو اور وہ گھر چھوڑ کر اُس وقت باہر گیا ہوا ہو۔مثلاً فرض کرو اُس نے ہنڈیا چڑھائی ہوا اور اس کے معا بعد ایک شخص اس کے پاس دوڑتا ہوا آیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ تمہارا بیٹا ڈوب گیا ہے اور وہ اسی وقت اس کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا ہو اور ہنڈیا اس نے چولہے پر ہی رہنے دی ہو۔تو چونکہ ایسی کئی صورتیں ممکن ہیں اس لئے باوجود ہنڈیا کی آواز سننے کے اور باوجو د آگ کو جلتا دیکھنے کے ہم اگر یہ نتیجہ نکالیں کہ اندر کوئی شخص واقعہ میں موجود ہے تو ہم اس نتیجہ کے نکالنے میں غلطی پر