خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 175
خلافة على منهاج النبوة ۱۷۵ جلد سوم قلعی کا وجود ضروری ہوتا ہے اسی طرح انبیاء کو خدا تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔پھر چوکٹھا جو ہوتا ہے وہ آئینہ کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے اور وہ بھی نبوت اور خلافت کا مقام ہے یعنی انبیاء اور ان کے خلفاء اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں۔خود اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ حی و قیوم ہے لیکن اُس نے اپنی سنت یہی رکھی ہے کہ وہ اپنے وجود کو بعض انسانوں کے ذریعہ قائم رکھے۔ان وجودوں کو مٹا دوساتھ ہی خدا تعالیٰ کا ذکر بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔تم ساری دنیا کی تاریخیں پڑھ جاؤ (اب یہ جو اگلا حصہ ہے یہ خواب کا نہیں بلکہ بطور تشریح میں خود بیان کر رہا ہوں ) تمہیں کہیں یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود بغیر انبیاء کے دنیا میں قائم ہوا ہو۔حالانکہ انبیاء بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہر وقت موجود ہے اور اُس کا نور ہر چیز سے ظاہر ہے۔مگر باوجود اس کے کہ اُس کا نور دنیا کی ہر چیز سے ظاہر ہو رہا ہے پھر بھی انبیاء ہی ہیں جو اسے ایسی طرز پر ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کیا خدا نہیں تھا ؟ خدا اُس وقت بھی اسی طرح آسمان سے ظاہر ہو رہا تھا ، اسی طرح زمین سے ظاہر ہو رہا تھا ، اسی طرح دریاؤں سے ظاہر ہو رہا تھا ، اسی طرح فضا سے ظاہر ہو رہا تھا ، اسی طرح پاتال سے ظاہر ہو رہا تھا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔پھر پہلے زمانہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فرق کیا تھا ؟ فرق یہی تھا کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ کے نور کے ظہور کیلئے کوئی ذریعہ موجود نہیں تھا۔ایک آئینہ تھا مگر اس آئینہ کے ساتھ وہ قلعی نہیں تھی جو اسے روشن کر کے لوگوں کی نظروں کے قابل بنا دیتی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شیشے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا تو جس طرح آئینہ کے پیچھے جب قلعی کھڑی کر دی جاتی ہے تو آئینہ کو ایک خاص شکل مل جاتی ہے اور اس میں دوسروں کی بھی شکلیں نظر آنے لگ جاتی ہیں اسی طرح ساری دنیا کو خدا نظر آنے لگ گیا اور اس کے وجود کا اسے احساس ہو گیا اور نہ شیشہ جتنا زیادہ مصفی ہو اتنا ہی لوگوں کو کم نظر آیا کرتا ہے۔کئی دفعہ جب اعلیٰ درجہ کے شیشے