خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 172

خلافة على منهاج النبوة ۱۷۲ جلد سوم دنیا انبیاء اور خلفاء کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کے ءاور نور کا مشاہدہ کرتی ہے فرموده ۱۷ ستمبر ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گزشتہ اتوار کی رات میں نے ایک عجیب رویا دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑا جلسہ گاہ ہے مگر اس رنگ کا نہیں جیسا کہ ہمارا جلسہ گاہ ہوا کرتا ہے بلکہ جیسا کہ تاریخوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ روم میں بڑے بڑے قومی اجتماعوں کیلئے ایمی تھیٹر (AMPHI THEATRE) بنائے جایا کرتے تھے اسی رنگ کا وہ جلسہ گاہ ہے۔یعنی جو خطیب ہے اُس کے سامنے مربع یا مستطیل شکل میں جلسہ گاہ نہیں بلکہ ہلالی شکل میں ہے۔جس طرح گھوڑے کا نعل بیچ میں سے خالی ہوتا اور قریباً نصف دائرہ یا اس سے کچھ زیادہ بنتا ہے اسی طرح ایک وسیع میدان میں جو نصف میل یا میل کے قریب ہے اس طرح پینچ لگے ہوئے ہیں۔جس طرح پہلے دن کا چاند ہوتا ہے ایک گول دائرہ ہے جو دور فاصلہ سے شروع ہو کر دونوں کناروں سے آگے بڑھنا شروع ہوتا ہے۔اور جس طرح چاند کی ایک طرف خالی نظر آتی ہے اسی طرح ایک طرف اس دائرہ کی خالی ہے اور وہاں لیکچرار یا خطیب کی جگہ ہے۔اس وسیع میدان میں کہ لوگوں کی شکلیں بھی اچھی طرح پہچانی نہیں جاسکتیں بہت سے لوگ لیکچر سننے کیلئے بیٹھے ہیں اور جو درمیانی جگہ خطیب کی ہے جہاں چاند کے دونوں کو نے ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں وہاں میں کھڑا ہوں اور اس وسیع مجمع کے سامنے ایک تقریر کر رہا ہوں۔وہ وں۔وہ تقریر