خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 168

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۸ جلد سوم ہوں مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔مجھے جو بات کہنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے میں اسے چھپا نہیں سکتا۔مجھے اپنی بڑائی بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور میں اس وقت تک اس شرم کی وجہ سے رُکا رہا ہوں لیکن آخر خدا تعالیٰ کے حکم کو بیان کرنا ہی پڑتا ہے۔میں انسانوں سے کام لینے کا عادی نہیں ہوں۔تم بائیس سال سے مجھے دیکھ رہے ہو اور تم میں سے ہر ایک اس امر کی گواہی دے گا کہ ذاتی طور پر کسی سے کام لینے کا میں عادی نہیں ہوں۔حالانکہ اگر میں ذاتی طور پر بھی کام لیتا تو میرا حق تھا مگر میں ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہوں کہ خود دوسروں کو فائدہ پہنچاؤں مگر خود کسی کا ممنونِ احسان نہ ہوں۔خلفاء کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس سے اس کے ماں باپ نے خدمات نہ لی ہوں گی۔مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی سے ذاتی فائدہ اٹھانے یا خدمات لینے کی میں نے کوشش کی ہو۔میرے پاس بعض لوگ آتے ہیں کہ ہم تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں ، آپ اپنی پسند کی چیز بتا دیں مگر میں خاموش ہو جاتا ہوں۔آج تک ہزاروں نے مجھ سے یہ سوال کیا ہوگا مگر ایک بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس کا جواب دیا ہو۔میرا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا ہے کہ وہ خود میری دستگیری کرتا ہے اور میرے تمام کام خود کرتا ہے۔بندے کا کام خدا تعالیٰ کا امتحان لینا نہیں مگر میں نے کئی دفعہ ابراہیم کی طرح جوشِ محبت میں خدا تعالیٰ سے اُس کی قدرتوں کے دیکھنے کی خواہش کی ہے اور اس نے میری خواہش پوری کی ہے۔ایک دفعہ میں ایک سفر پر تھا اور ایسے علاقہ سے گزر رہا تھا جہاں کوئی احمدی نہ تھا۔غالبا نشانات کا ذکر تھا میں نے اُس وقت اللہ تعالیٰ سے کہا کہ مجھے اپنے نشان کے طور پر ایک روپیہ دلوادیں۔اب یہ بات تو بالکل عقل کے خلاف تھی کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی مجھے ایک روپیہ دے دیتا۔اور اُس وقت یہ ذکر ہو رہا تھا کہ اس علاقہ میں کوئی احمدی نہیں اور لوگ شدید مخالف ہیں۔مگر ادھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور اُدھر سامنے ایک گاؤں کے لوگ کھڑے نظر آئے اور ہمارے کسی ساتھی نے کہا کہ اس گاؤں میں سے نہیں گزرنا چاہئے یہ لوگ سخت مخالف ہیں اور نمبر دار کئی دفعہ کہہ چکا ہے کہ یہاں اگر کوئی