خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 169

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۹ جلد سوم احمدی آیا تو اُسے جوتے مرواؤں گا اس لئے اس گاؤں سے ہٹ کر چلنا چاہئے۔مگر ہم اس قدر قریب پہنچ چکے تھے کہ اور کوئی رستہ ہی نہ تھا ، اس لئے چلتے گئے۔ہمیں دیکھ کر وہ نمبردار آگے بڑھا۔میرے ساتھی میرے ارد گرد ہو گئے کہ ایسا نہ ہو حملہ کر دے۔مگر اُس نے بڑھ کر سلام کیا اور ایک روپیا اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بطور نذرانہ پیش کیا۔میں مسکرا پڑا اور وہ دوست گاؤں سے باہر نکل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرنے لگے۔ایک نے کہا اس کا روپیہ لینا نہیں چاہئے تھا۔میں نے کہا اسی کا تو لینا چاہئے تھا۔اسے کیا معلوم تھا کہ وہ روپیہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندہ کے ناز کو پورا کرنے کی علامت تھا۔تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ مجھ سے ایسا ہے کہ اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔بیسیوں مرتبہ میں نے اپنی آمد اور اخراجات کا حساب کیا ہے تو اخراجات آمد سے ہمیشہ دو گنا ہوئے ہیں اور پھر پتہ نہیں وہ کس طرح پورے ہوتے ہیں۔پھر حساب کے معاملہ میں میں اس قدر محتاط ہوں کہ میں چیلنج کرتا رہتا ہوں کہ جو چاہے میرے حساب کو دیکھ لے۔پچھلے دنوں ایک شخص کے اعتراضات کے جواب میں میں نے جو خطبہ پڑھا تو ایک غیر مبائع کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا ہے میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ کے حسابات ہمارے حسابات سے زیادہ صاف ہیں۔ہم پر اعتراض ہو سکتے ہیں مگر آپ پر نہیں۔مگر آخر میں یہ بھی لکھ دیا کہ تین سال سے جو فلاں شخص پیدا ہوا ہے شاید اس سے ڈر کر یہ حساب رکھے گئے ہیں۔میں نے اسے لکھا کہ تین سال سے نہیں بلکہ ۲۲ سال سے ہی ایسے ہیں جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کو اپنے ساتھ دیکھ کر میں کسی انسان پر کوئی امید نہیں رکھ سکتا۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ موٹر رکھا ہوا ہے۔نادان نہیں جانتے کہ موٹر تو جلدی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا ذریعہ ہے۔موٹر کی قیمت عرب کے گھوڑے کے برا بر ہی ہوتی ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی گھوڑے رکھتے تھے۔پھر گاڑی بھی تو سواری کا ذریعہ ہے۔اگر موٹر سادگی کے خلاف ہے تو پھر گاڑی میں بھی سفر نہیں کرنا چاہئے۔کامل سادگی اسی میں ہے کہ پیدل چلا جائے۔میرا موٹر تو بہت سارا دینی کاموں کے کام آتا ہے۔سلسلہ کے جو مہمان یہاں آتے ہیں ان کے سواری کے کام یہی آتا ہے۔پھر سلسلہ کے کاموں