خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 165

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۵ جلد سوم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ آ کر ٹھہرتے ہیں یعنی مسجد مبارک کے ساتھ جو کمرہ ہے۔ایک روز قریشی امیر احمد صاحب مجھے گھر پر بلانے آئے اور کہا کہ حضرت خلیفہ اسی بلاتے ہیں۔میں گیا تو اُس وقت وہاں شیخ رحمت اللہ صاحب ، مرزا الیعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور غالباً مولوی صدر الدین صاحب بیٹھے تھے۔جب میں دروازہ میں پہنچا تو دیکھا ان کے چہروں کے رنگ اُڑے ہوئے ہیں۔میں گھبرایا کہ خدا خیر کرے۔میں نے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا اور مجھے یاد نہیں حضرت خلیفہ اول نے جواب دیا یا نہیں اور فرمایا میاں ! تم بھی اب ہمارے خلاف منصوبوں میں شامل ہوتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں میں تو کسی ایسے منصوبہ میں شامل نہیں ہوا؟ آپ نے فرمایا یہ لوگ بیٹھے ہیں میں نے ایک مکان کے متعلق کہا تھا کہ وہ فلاں شخص کو دے دیا جائے اور ان لوگوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا ہے اور میرے پوچھنے پر کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔میں نے کہا یہ بالکل خلاف واقعہ امر ہے۔اِن لوگوں نے یہ معاملہ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شخص کم قیمت دیتا ہے۔میں نے کہا حضرت خلیفہ اول کا منشاء ہے کہ اسی کو دیا جائے۔اس پر ڈاکٹر محمد حسین صاحب نے کہا کہ ہم لوگوں کو تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ہم لوگ ٹرسٹی ہیں اور جماعت کے اموال کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اعتمادی بنایا ہے دین کیلئے ہمیں جہاں سے زیادہ رقم ملے لے لینی چاہئے۔میں نے کہا کہ حضرت خلیفتہ المسیح سے زیادہ تقویٰ کا خیال کون رکھ سکتا ہے۔اگر ان کے نزدیک کم قیمت پر اس شخص کو دے دینا ضروری ہے تو میرے نزدیک یہی تقویٰ ہے۔مگر یہ کہنے لگے کہ حضرت خلیفہ اسیح نے اجازت دے دی ہے۔میں نے کہا کہ ان کی تحریر دکھائیں۔اس پر انہوں نے آپ کی ایک تحریر دکھائی جس میں لکھا تھا کہ میں نے وہ مشورہ دیا تھا جو میرے نزدیک صحیح تھا لیکن اب میں وہ مشورہ واپس لیتا ہوں جس طرح چا ہو کر و۔یہ دیکھ کر میں نے کہا یہ اجازت تو نہیں نا راضگی کی تحریر ہے اس لئے اگر آپ لوگوں کا پہلے ارادہ بھی کسی اور کو دینے کا تھا تو اب رُک جانا چاہئے۔لیکن اس کے جواب میں انہوں نے پھر کہا کہ تقویٰ سے کام لینا چاہئے اور میں یہ کہہ کر کہ میرے نزدیک تقوی وہی ہے جو حضرت خلیفہ اسیح پسند کرتے ہیں خاموش ہو گیا۔حضرت خلیفہ اول نے ان سے