خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 161
خلافة على منهاج النبوة 171 جلد سوم خدا کے رسول ہیں ؟ کیا ہمارا دین سچا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب نہیں دیکھا تھا کہ ہم عمرہ کر رہے ہیں؟ پھر ہوا کیا ؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا عمر ! کیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم ضرور اسی سال عمرہ کریں گے؟ خواب صرف یہی ہے کہ ہم عمرہ کریں گے سوضرور کریں گے۔تب حضرت عمرؓ کا دل صاف ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ صداقت جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلی اُسی طرح ابو بکر کی زبان سے بھی نکلی۔تو صلح حدیبیہ بڑا بھاری امتحان تھا ، بڑی آزمائش تھی مگر صحابہ نے انتہائی اطاعت کا نمونہ دکھایا۔مؤمن کو بعض دفعہ ایسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم انتہائی طور ذلیل کئے جارہے ہیں۔پہلوں سے بھی ایسا ہوا اور ضروری ہے کہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی غرضیکہ سب انبیاء کی جماعتوں سے ایسا ہوا۔حضرت عیسی کی صلیب کا واقعہ کچھ کم نہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ یہ وعظ کیا کرتے تھے کہ اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلوار میں خرید و مگر جب حکومت نے آپ کو پکڑا تو پطرس جوش میں آیا اور اُس نے لڑنا چاہا مگر حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا پطرس جوش میں مت آ اور خاموش رہ۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے پطرس نے تلوار جو اس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کا ہن کے نوکر پر چلا کر اُس کا داہنا کان اُڑا دیا۔یسوع نے پطرس سے کہا تلوار کومیان میں رکھ۔جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا کیا میں اسے نہ پیوں کے حضرت موسی کے زمانہ میں بھی کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ ان کی قوم جوش میں لڑنا چاہتی مگر وہ حکم دیتے کہ ٹھہر جاؤ۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو گلی طور پر خدا کی تدبیر کے ماتحت کر دیں۔مگر وہ مردہ نہیں ہوتے ان کے اندر جوش اور اخلاص ہوتا ہے۔وہ قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں مگر قربانی کرنے کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن ہو اور جس رنگ میں ہو وہ اُسی وقت اور اُسی رنگ میں قربانی کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی فوقیت اور عظمت کی بڑی علامت فرمانبرداری اور اطاعت کا ایسا نمونہ ہی ہوتا ہے جو دوسری قوموں میں نظر نہیں آتا۔جو چیز دوسروں کی نگاہ