خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 160

خلافة على منهاج النبوة 17۔جلد سوم ان میں سے ایک بھی نہیں اُٹھا۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! آپ کسی سے بات ہی نہ کریں۔آپ سیدھے جا کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کر دیں۔یہ زجر زبان کی زجر سے بہت سخت تھی اور یہ مشورہ نہایت ہی اچھا تھا۔چنانچہ آپ باہر آئے ، نیزہ لیا اور بغیر کسی مدد کے اپنے جانور ذبح کرنے شروع کر دیئے۔جو نہی صحابہ نے یہ دیکھا معاً انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ دوڑے، بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیلئے اور بعض اپنی قربانیوں کی طرف۔اور ان کی بے تابی اِس قدر بڑھ گئی کہ وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے تلواروں کی نوکوں سے ایک دوسرے کو ہٹاتے تھے۔۔لیکن گو انہوں نے یہ فرمانبرداری دکھائی اور ان کا جوش بھی ٹھنڈا ہوا مگر پوری طرح نہیں ہوا۔حضرت عمر جیسا مخلص انسان بھی اپنے جوش کو نہ دبا سکا۔آپ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جا کر بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ يَارَسُولَ اللهِ! کیا آپ خدا کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم خدا کی کچی جماعت نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہیں۔حضرت عمر نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ کو ایک رویا ہوئی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ صحیح ہے۔اس پر حضرت عمر نے عرض کیا کہ یہ نا کامی پھر کس بات کا نتیجہ ہے؟ ہم ایمان پر ہوتے ہوئے دب گئے اور کفار کا پہلو بھاری رہا اور ہم نے ایسی ایسی شرطیں منظور کر لیں کہ اپنے ایک بھائی کو سخت مصیبت کی حالت میں دیکھا مگر کچھ نہ کر سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک مجھے رویا ہوئی تھی مگر کیا میں نے کہا تھا کہ اس سال ہم عمرہ کریں گے؟ میں نے صرف قیاس کیا تھا اور اسی قیاس کی بناء پر آیا اور تم کو معلوم ہے کہ یہ بات شرائط میں ہے کہ ہم اگلے سال عمرہ کریں گے اور خواب پورا ہوگا۔پھر اس میں ذلت کی کوئی بات نہیں کہ جو مسلمان ہوا سے واپس کیا جائے اور جو کافر ہوا سے اپنے ہم مذہبوں کے پاس جانے دیا جائے۔جس مسلمان کو کفار پکڑ کر رکھیں گے وہ تبلیغ ہی کرے گا اور جو مسلمان مرتد ہو جائے تم بتاؤ ہم نے اُسے رکھ کر کرنا ہی کیا ہے۔اس پر حضرت عمر خاموش ہو گئے۔ان کا جوش کم ہوا مگر پوری طرح فرو نہیں ہوا۔اور پھر وہ اس شخص کے پاس پہنچے جسے اللہ تعالیٰ نے صدیق کہا ہے اور جس کی نبض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبض کے تابع چلتی تھی اور کہا ابوبکر ! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم