خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 159
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۹ جلد سوم اور اس حالت میں یہاں پہنچا ہوں۔صحابہ کو اُس کی حالت دیکھ کر اتنا جوش تھا کہ وہ آپے سے باہر ہورہے تھے۔لیکن اہل مکہ کی طرف سے جو شخص سفیر ہو کر آیا ہوا تھا اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر کہا کہ ہمیں آپ سے غداری کی امید نہیں۔آپ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے تو اسے واپس کر دیں گے اس لئے یہ شخص واپس کیا جائے۔اُس وقت اُن ہزاروں آدمیوں کے سامنے جو اپنے گھروں سے جانیں دینے کیلئے نکلے تھے، ان کا ایک بھائی تھا جو مہینوں سے قید تھا ، جس کے ہاتھوں اور پاؤں سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے اور جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تھا اسے دیکھ کر صحابہ کی تلواریں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں اور وہ دلوں میں کہہ رہے تھے کہ ہم سب یہیں ڈھیر ہو جائیں گے مگر اسے واپس نہیں جانے دیں گے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ خدا کے رسول دھو کا نہیں کیا کرتے۔ہم نے وعدہ کیا ہے اور اب خواہ ہمارے دلوں کو کتنی تکلیف ہو ، اسے پورا کریں گے اور آپ نے کفار کے نمائندہ سے فرمایا کہ اسے لے جاؤ۔جب اس شخص نے دیکھا کہ مجھے واپس کیا جا رہا ہے تو اس نے پھر نہایت مترحمانہ نگاہوں کے ساتھ صحابہؓ کی طرف دیکھا اور کہا تم جانتے ہو مجھے کس طرف دھکیلتے ہو؟ تم مجھے ظالم لوگوں کے قبضہ میں دے رہے ہو؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کو تاب نہ تھی کہ آنکھ اُٹھا سکے اس لئے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔ہے لیکن صحابہ کو اس کا رنج اتنا تھا ، اتنا تھا کہ جب صلح نامہ پر دستخط ہو چکے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ اس سال ہمیں عمرہ کا موقع نصیب نہ ہو۔جاؤ اور اپنی قربانیوں کو ذبح کر دو۔آپ نے یہ فرمایا اور وہ صحابہ جو آپ کے ایک اشارے پر اُٹھ کھڑے ہوتے اور نہایت بے تابی کے ساتھ فرمانبرداری کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی کوشش کرتے تھے ان میں سے ایک بھی نہ اُٹھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ اُمہات المؤمنین میں سے ایک بی بی تھیں۔آپ نے ان سے کہا کہ آج میں نے وہ نظارہ دیکھا ہے جو نبوت کے ایام میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے باہر جا کر صحابہؓ سے کہا کہ اپنی قربانیاں ذبح کرد و مگر