خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 142
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۲ جلد سوم حالت میں اگر تم اسے روٹی نہیں دیتے اور وہ بھو کا چلا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی تم ایک گناہ کے مرتکب ہو گے کیونکہ کھانا تمہارے پاس موجود تھا مگر تم نے اسے نہیں دیا۔لیکن ان دونوں جگہ ایک بین فرق بھی موجود ہے جو تمہارے جرم کو ایک جگہ معمولی اور دوسری جگہ سنگین بنا دیتا ہے۔جب تم نے آبادی میں ایک بھو کے اور غریب شخص کو روٹی نہ دی تو اُس وقت امکان تھا کہ اسے کوئی اور شخص روٹی دے دیتا مگر جنگل میں جب تم نے ایک بھو کے کو روٹی نہ دی اور ایسی حالت میں نہ دی جبکہ ہیں ہیں تھیں تھیں میل تک اسے کھانا ملنے کی امید نہ ہو سکتی تھی تو تم نے اسے بھوکا ہی نہیں رکھا بلکہ اگر وہ مر جائے گا تو تم اس کے قاتل بھی ٹھہرو گے۔تو صرف عمل کو دیکھا نہیں جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ارد گرد کے حالات اس عمل کو کیا شکل دے رہے ہیں۔بالکل ممکن ہے ایک عمل ظاہری نگاہ میں بالکل چھوٹا ہو مگر حالات کی وجہ سے وہ بہت بڑی اہمیت رکھنے لگے۔مثلاً دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو حافظ قرآن ہیں اگر کوئی شخص کسی حافظ قرآن کو قتل کرتا ہے تو ہم اسے قاتل کہیں گے۔لیکن فرض کرو اگر کسی وقت دنیا میں صرف ایک ہی حافظ قرآن ہو تو اگر کوئی شخص اُس کو مارے گا تو نہیں کہا جا سکے گا کہ دونوں کا فعل ایک جیسا ہے کیونکہ گو دونوں جگہ حافظ قرآن ہی قتل ہوئے ہوں گے مگر ان دونوں قتلوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پہلا قاتل صرف ایک عام آدمی کا قاتل ہے مگر دوسرا قاتل صرف ایک آدمی کا قاتل نہیں بلکہ قرآن کا بھی قاتل ہے۔کیونکہ اس کے قتل کے بعد دنیا میں کو ئی شخص ایسا نہیں رہے گا جس کے سینہ میں قرآن محفوظ ہو۔تو صرف کسی عمل کی ظاہری شکل نہیں دیکھی جاتی بلکہ اس کے باطنی حالات بھی دیکھے جاتے ہیں۔اب دیکھ لو رسول کریم میہ کے زمانہ میں بہت بڑا فرق ہے۔اُس وقت حکومت ساتھ تھی ، اسلام مضبوط ہو چکا تھا ، ملکوں کے ملک اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور اسلامی شریعت پر رات اور دن عمل کروایا جا رہا تھا۔پس اُس وقت تفرقہ صرف سیاسی کمزوری پیدا کرتا تھا مگر یہ زمانہ اور ہے، ترقی آہستہ ہے، حکومت غیر ہے، اسلامی تمدن قائم نہیں ہوا۔پس آج کا تفرقہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کو بالکل رائیگاں کر سکتا ہے۔صلى الله اسی لئے آج کا فساد اور اُس وقت کا فساد بالکل مختلف ہے۔اُس وقت رسول کریم ع کے ہے۔