خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 140

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۰ جلد سوم علیہ الصلوۃ والسلام کا فیصلہ یہی ہے کہ فَبَغِی وَ طَغَی۔بعض نادان اس موقع پر کہا کرتے ہیں کہ جب بیعت سے الگ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص غیر احمدی نہیں ہو جاتا تو پھر بیعت نہ کرنا یا بیعت کا تو ڑ دینا کوئی بڑا گناہ تو نہ ہوا۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک خطر ناک غلطی ہے۔ایمان کے معاملہ میں جب انسان جان بوجھ کر کہتا ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب اگر چہ گناہ ہے مگر میں نے اگر کر لیا تو کیا حرج ہوا تو وہ ضرور اپنے ایمان کو تباہ کر لیتا ہے۔اگر کوئی شخص مجور یا عادتا یا جہالتا نادانی سے کوئی گناہ کرتا ہے تو یہ اور بات ہے۔لیکن اگر ایک شخص سمجھتا ہے کہ فلاں امر گناہ ہے اور پھر وہ اسے معمولی بات خیال کر کے اس گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اس شخص کو خدا دولتِ ایمان سے محروم کر کے ہی چھوڑتا ہے کیونکہ وہ باغی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہتک کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تباہی میں بھی بہت بڑا دخل اس امر کا بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹا گناہ ہے اور وہ بڑا۔حالانکہ مومن کامل وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ادنی ناراضگی سے بھی ڈرے اور اس کے ارتکاب سے بچے۔یہ نہ کہے کہ میرا احمدی نہ ہونا تو بہت بڑا گناہ ہے لیکن احمدی ہو کر نماز نہ پڑھنا یا روزے نہ رکھنا معمولی باتیں ہیں۔جو شخص اس طرح اپنی رضامندی اور خوشی سے جانتے بوجھتے ہوئے کوئی گناہ کرتا ہے اور اسے چھوڑتا نہیں وہ خدا تعالیٰ کو چیلنج کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے تیری رضا کی پرواہ نہیں۔پس مومن تو خدا تعالیٰ کی ادنی ناراضگی سے بھی ڈرتا ہے گجا یہ کہ اس قدر اہم ناراضگی سے نہ ڈرے جو گو کفر نہیں مگر کفر کے دروازہ تک انسان کو پہنچا دیتی ہے۔اور ومَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأولئكَ هُمُ الفيسقون کا اسے مورد بنا دیتی ہے۔دراصل جو شخص نیکیوں کو یہ سمجھ کر چھوڑتا چلا جاتا ہے کہ وہ معمولی ہیں اور گناہوں کا اس لئے ارتکاب کر لیتا ہے کہ اس کے نزدیک ان گناہوں کا ارتکاب کوئی بڑی بات نہیں ، اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کسی شخص کو بہادری کا دعویٰ تھا وہ ایک دن کسی گودنے والے کے پاس گیا اور کہا کہ میرے بازو پر شیر گود دو۔اس نے شیر گودنے کیلئے جب سوئی ماری تو اُسے درد ہوا اور کہنے لگا بتاؤ کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے کہا میں شیر کا کان گود نے لگا ہوں۔کہنے لگا کون سا کان دایاں یا بایاں ؟ اس نے کہا دایاں۔وہ کہنے لگا اچھا