خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 139

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۹ جلد سوم سے نہ تھے )۔اب اگر مصری صاحب اس لئے خوش ہیں کہ میں گو غیر احمدی نہیں مگر باغی اور طاغی ہوں تو وہ بے شک خوش ہو لیں۔ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو شخص مومن ہو وہ خدا تعالیٰ کی ادنیٰ سے ادنی ناراضگی سے بھی ڈرتا اور چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے ارتکاب سے بھی خوف کھاتا ہے۔ان کو اگر اس بات کی پرواہ نہیں اور انہیں اس بات پر فخر ہے کہ میں باغی اور طاغی ہوں غیر احمدی نہیں تو بیشک اس پر فخر کر لیں ہم بھی انہیں غیر احمدی نہیں کہتے بلکہ باغی اور طافی ہی کہتے ہیں۔پس یا د رکھو حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے گو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی مگر وہ جبری بیعت تھی ، طوعی بیعت نہیں تھی۔اور پھر بیعت کے وقت انہوں نے شرط بھی کر لی تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا۔مگر جب ان کی نگاہ میں یہ شرط پوری نہ ہوئی تو انہوں نے بیعت توڑ دی۔لیکن تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ان کے بیعت توڑنے کے فعل کو اُن کے ساتھیوں نے بھی نا پسند کیا۔چنانچہ ایک شخص سے جب کسی دوسرے شخص نے کہا کہ تم تو حضرت عثمان کے قاتلوں کے مخالف تھے پھر آج حضرت علیؓ کے ساتھیوں میں کیوں شامل ہو گئے؟ تو اُس نے کہا میں اس لئے ان کے ساتھ شامل ہوا ہوں کہ إِنَّهُمْ نَكَفُوا الْبَيْعَة۔طلحہ اور زبیر نے بیعت کی اور پھر توڑ دی گویا باوجود یکہ ان کی بیعت جبری بیعت تھی پھر بھی ان کے ساتھیوں نے ان کے فعل کو نا پسند کیا اور کہا کہ جب بیعت کر لی تھی تو خواہ جبری بیعت تھی پھر بھی اس بیعت کو توڑنا نہیں چاہئے تھا۔غرض ان لوگوں کی مثالوں سے استنباط بالکل غلط ہے۔انہوں نے بیعت یا تو عارضی طور نہ کی اور پھر کر لی یا پھر جنہوں نے بیعت کی گڑھا کی اور پھر فوراً الگ ہو گئے ، استقرار بیعت کبھی نہیں ہوا۔یا پھر انہوں نے بیعت نہ کی مگر خلافت کا مقابلہ بھی نہیں کیا بلکہ صرف ، کہا کہ اگر فلاں امر ہو جائے مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے بدلہ لے لیا جائے تو ہم بیعت کر لیں گے۔جیسے حضرت معاویہؓ ہیں کہ انہوں نے گو حضرت علیؓ کی اسی وجہ سے بیعت نہیں کی مگر انہوں نے آپ کا مقابلہ بھی نہیں کیا۔غرض تمکین خلافت کے بعد کسی کی مخالفت یا بیعت طوعی کا توڑنا ہرگز ثابت نہیں اور اگر ہو تو اس کے متعلق حضرت مسیح موعود