خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 129
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۹ جلد سوم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی۔پس ایک روایت کو قائم کرنے اور اسے درست قرار دینے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔پھر جن روایات میں یہ آتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی اُنہی میں سے بعض میں ( میں نے حضرت خلیفہ اول سے سنا ہے ) یہ بھی آتا ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دستی بیعت میں نے ابتدائی چھ ماہ میں اس لئے نہ کی کہ حضرت فاطمہ اتنی شدید بیمار تھیں کہ میں انہیں چھوڑ کر نہیں آ سکتا تھا حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا یہی مذہب تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر کی بیعت فورا ہی کر لی تھی۔پس یہ دلیل کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی اول تو یہ مکمل دلیل نہیں کیونکہ اس کے خلاف بھی روایات پائی جاتی ہیں اور اگر بفرض محال دوسری روایت درست ہو تو پھر بھی یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت سے کبھی انکار نہیں کیا۔صرف حضرت فاطمہ کی شدید بیماری کی وجہ سے تیمارداری میں مشغول رہنے کے باعث وہ فورا دستی بیعت نہیں کر سکے۔اور یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص باہر ہو اور وہ کسی اشد مجبوری کی وجہ سے نہ آ سکے۔ایسی حالت میں اگر وہ اپنے دل میں خلیفہ وقت کی بیعت کا اقرار کر چکا ہے تو وہ بیعت میں ہی شامل سمجھا جائے گا۔دوسری دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی۔مگر حضرت عائشہ کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی اول تو تاریخی طور پر ثابت نہیں اور میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ حضرت عائشہ نے اپنی وفات تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی۔لیکن اگر بفرضِ محال اس امر کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ثابت کریں کہ اُس زمانہ میں ہر فرد واحد خلیفہ وقت کی اصالتاً دوبارہ بیعت کیا کرتا تھا۔ہمیں تو تاریخی کتب کے مطالعہ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں بڑے بڑے آدمی خلیفہ وقت کی بیعت کر لیا کرتے تھے اور اُن کے بیعت کر لینے کی وجہ سے سارے علاقوں کی بیعت سمجھی جاتی تھی۔صرف وہ لوگ خارج از بیعت سمجھے جاتے تھے جو خود بیعت کا انکار کریں ورنہ خاموشی اقرار بیعت قرار دی جاتی تھی۔خصوصاً عورتوں کا