خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 127

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۷ جلد سوم خلافت راشدہ جب دنیا سے مٹی تو جماعت بھی ساتھ ہی مٹ گئی مگر اس کے ساتھ مذہب نہیں مٹا۔بلکہ مسلمانوں کی کئی جماعتیں بن کر کوئی افغانستان میں قائم ہوگئی ، کوئی ایران میں ، کوئی عرب میں قائم ہو گئی اور کوئی سپین میں۔پس با وجود اس کے کہ مسلمان دنیا میں متفرق ہو گئے مذہب ان کے پاس رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خلافت موجود نہ ہو تو بیعت میں نہ شامل ہونے والے کا اور حال ہوتا ہے اور جب موجود ہو تو اور ہوتا ہے۔جس طرح پانی کی موجودگی میں تیم کرنے والے اور عدم موجودگی میں تیمم کرنے والے میں فرق ہے۔لیکن پھر بھی ہم یہ نہیں کہتے کہ جس نے بیعت توڑ دی وہ مسلمان نہیں رہا۔ہاں اُس شخص کو گنہ گار اور روحانیت سے دور ہو جانے والا ضرور قرار دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اگر اس کے نفس میں شرارت ہے تو وہ ایمان سے کسی دن محروم ہو جائے گا۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء ہمارے ساتھ عقائد میں بھی اختلاف رکھتے ہیں۔مثلاً وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے قائل نہیں۔وہ آپ کے منکروں کے متعلق یقین رکھتے ہیں کہ ان میں بھی بزرگ اور نیک ہو سکتے ہیں۔لیکن اس وقت تک شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے قائل نہیں۔پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کے متعلق تو یہ کہیں کہ وہ احمدی ہیں اور مصری صاحب کے متعلق یہ کہیں کہ وہ احمدی نہیں۔جنہوں نے عقائد میں ہم سے بہت زیادہ اختلاف کیا جب ہم انہیں بھی آج تک احمدی کہتے رہے اور کہتے ہیں تو مصری صاحب کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ چونکہ انہوں نے بیعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اس لئے وہ احمدی نہیں رہے۔پس یہ کیسی چالبازی ہے کہ کہا جاتا ہے ” حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فسخ کر لیا۔مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔یہ سوال تو تب ہوتا جب ہم کہتے کہ چونکہ مصری صاحب نے بیعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اس لئے وہ غیر احمدی ہو گئے ہیں۔لیکن جب ہم نے یہ کہا ہی نہیں تو ایک جھوٹی بنیاد پر لوگوں کو اشتعال دلا نا صریح دھوکا دہی ہے جو انہوں