خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 126
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۶ جلد سوم لگا نا بتاتا ہے کہ خود تمہارے دل میں کوئی شکوک پیدا ہوئے ہیں جن کو تم دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہو۔ہمارا تو یہ طریق ہی نہیں کہ جب کوئی شخص ہماری جماعت میں سے الگ ہو تو اُس کے متعلق ہم یہ کہنا شروع کر دیں کہ وہ احمدی نہیں رہا۔خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق بھی ہم یہی کہتے تھے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کے متعلق بھی یہی کہتے تھے کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔اسی طرح باقی تمام غیر مبائعین کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں۔ہاں ساتھ ہی ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سب احمدی ہیں اور ہم انہیں احمدی ہی سمجھتے ہیں گو احمد یہ جماعت میں نہیں سمجھتے۔چنانچہ جب کبھی پیغامیوں اور ہماری جماعت میں مباحثہ ہو تو ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ جماعت تو ہماری ہی ہے جو ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکی ہے تم لوگ پراگندہ اور متفرق ہو۔تمہارا حق نہیں کہ تم اپنے آپ کو جماعت کہو۔پھر میرے متعد دفتو ے موجود ہیں جن میں دوستوں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ کیا غیر مبائعین کے پیچھے نماز جائز ہے؟ اور میں نے ہمیشہ انہیں یہی جواب دیا کہ جائز تو ہے مگر مگر وہ ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم امام اُس شخص کو بناؤ جو تم میں سے اتقی اور معزز ہو۔وہ لوگ چونکہ خلیفہ وقت کا انکار کر کے ومَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأوليكَ هُمُ الفسقون لے کے ماتحت آچکے ہیں اس لئے ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا پسندیدہ فعل نہیں سمجھا جا سکتا۔ہاں اگر کسی موقع پر مجبور ہو جاؤ تو نماز کے ادب کے لحاظ سے یہ جائز ہے کہ تم کسی غیر مبائع کے پیچھے نماز پڑھ لو۔لیکن کیا یہی فتویٰ ہم نے کبھی غیر احمدیوں کے متعلق بھی دیا ہے کہ اگر مجبور ہو جاؤ تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لو؟ جب نہیں تو صاف معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک بیعت سے الگ ہونا اور چیز ہے اور احمدیت سے الگ ہونا اور چیز۔اب باوجود یکہ پیغامیوں کو ہم اپنی جماعت میں نہیں سمجھتے پھر بھی ہم انہیں احمدی ہی کہتے ہیں۔کیونکہ جماعت اور چیز ہے اور احمدیت اور چیز۔جماعت متفرق ہو جاتی ہے مگر مذہب دنیا میں باقی رہتا ہے۔