خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 113

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم گے اور وہ کہیں گے کہ ہم اپنے جلسہ یا جلوس میں اس قسم کے نعرے ہر گز نہیں سنیں گے۔پس اگر تم اپنے جلسوں اور جلوسوں میں ان نعروں کو سننے کیلئے تیار نہیں تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ دوسروں کے جلسوں اور جلوسوں میں بھی تم اپنی زبانوں کو روکو اور اپنے جذبات پر قابورکھو۔پھر ایک اور موٹی بات ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور وہ یہ کہ تم میں سے ایک شخص ایک مجرمانہ فعل کرتا ہے تو تم سب کو کیوں فکر پڑ جاتی ہے حالانکہ تمہارا فرض صرف اتنا ہے کہ تم مجرم کو مجرم قرار دے دو اور اس کے فعل سے اپنی بے تعلقی اور براءت کا اظہار کر دو۔آج ہندوستان میں جس قدر فسادات ہیں ان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص مجرم کرتا ہے اور اُس کی ساری قوم سمجھ لیتی ہے کہ شاید ہم پر الزام لگا ہے اور زخم کردہ قوم واقعہ میں بھی اس ساری قوم کو مجرم سمجھنے لگتی ہے۔اگر تم بھی ایسا ہی کرو تو تم میں اور ان میں کیا فرق رہ جائے۔اگر کسی نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا تو بیشک یہ فقرہ بالکل سچ تھا مگر سچے فقرے بھی بعض دفعہ فتنہ وفساد کا موجب ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں ہی آتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول ! لبعض منافق تیرے پاس آتے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے مگر اے ہمارے رسول منافق اس وقت جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔پس بعض لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کو رسول کہنا بھی جھوٹ تھا حالانکہ اس سے بڑھ کر سچی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔اسی طرح حضرت علیؓ کے زمانہ میں کچھ لوگ تھے جنہوں نے ایک دفعہ کہا بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ھے مسلمانوں کے کام باہمی مشورہ سے ہونے چاہئیں۔حضرت علیؓ سے کسی نے یہ بات کہی تو آپ نے فرمایا كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ کہ یہ بات تو سچی ہے مگر اس سے فساد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔تو ہر سچی بات موقع ومحل کو مدنظر رکھے بغیر بیان کرنی جائز نہیں ہوتی۔میاں اور بیوی کے تعلقات سے زیادہ حلال اور کونسا تعلق ہوسکتا ہے مگر کیا جائز ہے کہ انسان مخصوص تعلقات کا ذکر کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُس عورت پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے جو اپنے خاوند کے پاس جاتی اور پھر باہر جا کر اُس کے متعلق باتیں کرتی ہے مگر کیا وہ سچ نہیں ہوتا۔