خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 114

خلافة على منهاج النبوة ۱۱۴ جلد سوم غرض سچائی کے اظہار کیلئے بھی شرائط ہوتی ہیں اور ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ہر شخص جس بات کو سچائی سمجھتا ہے وہ اس سچائی کے اظہار کا حق تو رکھتا ہے لیکن دشمن کی مجلس میں جب طبائع میں جوش ہو اُسے اس کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔جب لوگ جلوس نکال رہے ہوتے ہیں اُس وقت ان کی ساری عقیدت جو اپنے پیشواؤں کے ساتھ وہ رکھتے ہیں پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے۔محرم میں جب شیعہ لوگ روتے پیٹتے ہیں ، سنی بھی شیعہ ہو جاتے اور ان میں سے اکثر ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔کسی عقلمند کا مقولہ ہے کہ مسلمان گیارہ مہینے سنی رہتے ہیں اور بارہویں مہینہ سب شیعہ بن جاتے ہیں۔درحقیقت یہ بات بالکل درست ہے۔جس وقت شیعہ لوگ یا حسین یا حسین“ کے نعرے لگاتے ہیں تو واقعات کربلا کی یا دسینیوں کی عقلوں پر بھی پردہ ڈال کر انہیں شیعہ بنادیتی ہے اور اپنی سنیت انہیں بھول جاتی اور شیعیت ان پر غالب آجاتی ہے۔اسی طرح جس وقت ہندو یا سکھ جلوس نکال رہے ہوتے ہیں ان کی عقیدت کا جوش انتہاء تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔اُس وقت اگر کوئی مخالف اپنے عقیدہ کا اظہار کرتا ہے تو گو وہ ایک سچائی ہی ہو مگر چونکہ اس سے دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہے اس لئے وہ مجرم ہے اور اس کی جماعت کا کوئی حق نہیں کہ اس سے ہمدردی کرے۔در حقیقت میں تو اب کچھ مدت سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ تمام جلوسوں کو بند کر دے۔جلوسوں کی وجہ سے ہندوستان میں بڑے بڑے فساد ہوتے ہیں۔جب جلوس نکلتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک آفت آ گئی۔ادھر جلوس والوں میں جوش ہوتا ہے اُدھر جلوس کو دیکھ کر مخالفوں کے دلوں میں غیظ و غضب بھڑک اُٹھتا ہے اور بسا اوقات فساد اور کشت و خون تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔پس ہندوستان کے امن کی راہ میں جلوس ایک خطر ناک روک ہیں اور گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ ان جلوسوں کو بند کر دے۔اگر گورنمنٹ جلوسوں کے متعلق کوئی ایسا عام فیصلہ صادر کر دے کہ کسی کو بھی جلوس نکالنے کی اجازت نہ ہو گی تو میں اپنی جماعت کی طرف سے حکومت کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس کے خلاف نہ صرف کوئی پروٹسٹ نہیں کریں گے بلکہ حتی الامکان اس کی مدد کریں گے۔کیونکہ اس