خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 107
خلافة على منهاج النبوة 1+2 جلد سوم نہیں۔اسی طرح اگر تمہارے لئے مارنے کا مقام ہوتا تو تمہیں اس منہ کے توڑنے کی طاقت اور اس کے سامان بھی ملتے جس منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں۔مگر تمہیں اس کی توفیق نہیں دی گئی اور وہ سامان نہیں دیئے گئے۔پس معلوم ہوا کہ تمہار لئے اللہ تعالیٰ نے یہی مقام مقدر کیا ہے کہ تم گالیاں سنو اور صبر کرو۔اور اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا اے بے شرم ! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اُس منہ کو کیوں تو ڑ نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلوائی ہیں۔گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہے جاتے ہیں۔تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔کیا اُس کا اور تمہارا مذہب ایک ہے؟ یا اس کی اور تمہاری سیاست ایک ہے؟ یا اس کا نظام تمہارے نظام سے ملتا ہے؟ پھر گورنمنٹ تمہاری کیوں مدد کرے۔گورنمنٹ اگر ہمدردی کرے گی تو اُن لوگوں سے جو تمہارے دشمن ہیں کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں اور تم اقلیت میں اور گورنمٹوں کو اکثریت کی خوشنودی کی ضرورت ہوتی ہے۔پس گورنمنٹ کو تم سے کس طرح ہمدردی ہو سکتی ہے۔اُس کو تو اُسی وقت تک تمہارے ساتھ ہمدردی ہو سکتی ہے جب تک تم خاموش رہو اور دشمن کے مقابلہ میں صبر سے کام لو اور اس صورت میں بھی صرف شریف حاکم تمہاری مدد کریں گے اور کہیں گے انہوں نے ہمیں فتنہ وفساد سے بچالیا۔مگر یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹ اُس وقت مدد کرے جب دشمن تم کو گالیاں دے رہا ہو اور تم جواب میں اُسے گالیاں دے رہے ہو نادانی ہے۔اُس وقت اُس کی ہمدردی اکثریت کے ساتھ ہو گی کیونکہ وہ جانتی ہے اقلیت کچھ نہیں کر سکتی۔پس گورنمنٹ سے اسی صورت میں تم امداد کی توقع کر سکتے ہو جب خود قربانی کر کے لڑائی اور جھگڑے سے بچو اور اُس وقت بھی صرف شریف افسر تم سے ہمدردی کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی اور خاموش رہ کر اور صبر کر کے فتنہ وفساد کو بڑھنے نہ دیا مگر رذیل حکام پھر بھی تمہارے ساتھ لڑیں گے اور کہیں گے کیا ہوا اگر دشمن کا تھپڑ اُنہوں نے کھا لیا۔وہ زیادہ