خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 100

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم۔پچھلے دو سال میں میں نے ایک ہی وقت میں گورنمنٹ سے اور دوسرے مخالف اقوام سے لڑائی لڑی ہے یا نہیں ؟ تم میں سے کئی لوگ تھے جو اُس وقت کہتے تھے کہ ہمیں کس مصیبت میں پھنسا دیا۔مگر میں جانتا تھا کہ وہ وقت لڑنے کا تھا۔پس ہم لڑے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے فتح پائی۔لیکن اب جماعت کو ایک ایسے فتنہ میں مبتلا کیا جا رہا ہے جس میں میں سمجھتا ہوں ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو دکھا دیں کہ ہم مظلوم اور ہمارا دشمن ظالم ہے اور شرارت کی تمام تر ذمہ داری ہمارے دشمن پر ہے ہم پر نہیں۔پس جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ اس لڑائی کی وجہ لڑائی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے پچھلے دنوں جو حکومت پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہم ظالم نہیں بلکہ مظلوم ہیں اور ہمارا دشمن مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس خیال کو مٹایا جائے اور بعض اور ذرائع سے اپنی مظلومیت حکومت پر ظاہر کریں۔اگر تم ذرا بھی سوچ سمجھ سے کام لو تو یہ موٹی بات تو تمہیں بھی نظر آسکتی ہے کہ قادیان میں بلا وجہ فتنے مختلف شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔ایک وقت مسلمانوں کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے اور پھر یک دم اس میں تغیر آجاتا ہے اور پولیس کی طرف سے شور اُٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔پھر یک دم یہ حالت بھی بدل جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری لڑائی نہ مسلمانوں سے ہے نہ پولیس سے بلکہ سکھوں سے ہے۔پھر سکھوں سے لڑتے لڑتے یک دم تغیر آجاتا ہے اور سکھ تو بالکل خاموش ہو جاتے ہیں اور ہند و شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور ان لڑائیوں میں سے کسی لڑائی کے پیدا کرنے میں بھی ہما را دخل نہیں ہوتا۔جس وقت مسلمان شور مچار ہے ہوتے ہیں اُس وقت کوئی ایسی حرکت ہم نے نہیں کی ہوتی جو پندرہ میں سال پہلے ہم نے نہ کی ہو۔گویا کوئی تازہ حرکت ایسی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہم سمجھیں کہ ان کا شور مچانا حق بجانب ہے۔اسی طرح جب پولیس کی طرف سے شور مچایا جاتا ہے تو ہماری کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ اشتعال میں آئے۔پھر جب سکھ اور ہند و شور مچاتے ہیں اُس وقت بھی کوئی ایسا نیا فعل ہم سے صادر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سمجھا جائے کہ ان کا شور اور فتنہ وفساد کسی بنیاد پر ہے۔پس کیا اس محاذ کی تبدیلی سے تمہاری سمجھ میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ یہ کسی سازش اور چالا کی کا نتیجہ ہے۔اگر تم بات کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ تمہیں وسیع علم ہے اور نہ وسیع معلومات