خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 99

خلافة على منهاج النبوة ۹۹ جلد سوم منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور وہ اسے ٹھڈے پر ٹھڈے مارتا چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں کمشنر صاحب اندر داخل ہو گئے اور وہ پارٹی کی پارٹی کھڑی ہوکر کہنے لگی ' حضور ! روز ساڈے نال اسے طرح ہوندا ہے۔یعنی حضور ! ہمارے ساتھ روزانہ یہی سلوک ہوتا ہے۔کمشنر صاحب کی رپورٹ پر گورنمنٹ نے فیصلہ کیا کہ مہا راجہ واقعہ میں حواس باختہ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ مہا راجہ صاحب کے اختیارات محدود کر دئیے گئے اور وہ لڑکا جسے رانی نے گود میں ڈال لیا تھا اور جو ایک ملازم سرکار کا لڑکا تھا جسے بعد میں حج بنا دیا گیا جوان ہو کر گدی پر بٹھایا گیا اور خوش قسمتی سے نہایت شریف اور کامیاب راجہ ثابت ہورہا ہے۔تو بعض دفعہ دشمن اس قسم کی چالا کی بھی کرتا ہے۔سمجھنے والے تو بچ جاتے ہیں لیکن جو اندھا دھند کام کرنے والے ہوں وہ پھنس جاتے اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اسی وجہ سے اسلام نے حکم دیا کہ اْلاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہ سے کہ امام کو ہم نے تمہارے لئے ڈھال کے طور پر بنایا ہے۔اگر اس کے پیچھے ہو کر لڑو گے تو زخموں سے بچ جاؤ گے۔لیکن اگر آگے ہو کر حملہ کرو گے تو مارے جاؤ گے کیونکہ وہ خوب سمجھتا ہے کہ کیا حالات ہیں۔کس وقت اعلانِ جنگ ہونا چاہئے اور کس وقت دشمن کے فریب سے بچنا چاہئے۔کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی بعض دفعہ لوگ آتے اور گھنٹوں آپ سے مخفی باتیں کرتے۔قرآن کریم میں اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے هو اذن کہ منافق کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو کان ہی کان ہیں۔ہر وقت لوگ آتے اور انہیں رپورٹیں پہنچاتے رہتے ہیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی مخفی باتوں کا علم ہوا کرتا تھا۔بیسیوں دفعہ ایسا ہوا کہ آپ فرماتے میرے پاس رپورٹ آئی ہے کہ آج فلاں جگہ یہ کام ہو رہا ہے۔تو امام کو وہ معلومات ہوتی ہیں جو اور لوگوں کو نہیں ہوتیں۔اس لئے وہ جانتا ہے کہ فلاں کام جو ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے اور کس طرح ہورہا ہے اور اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جماعت سے اُسی وقت لڑائی کرائی جائے جب لڑائی کا کوئی فائدہ ہو۔ورنہ یہ تو نہیں کہ لڑائی کرنے میں تم مجھ سے زیادہ بہادر ہو۔