خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 94
خلافة على منهاج النبوة ۹۴ جلد سوم سکتے۔اور سلسلہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ ان شرائط اور ذمہ داریوں میں سے ایک اہم شرط اور ذمہ داری یہ ہے کہ جب وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے اور اس کی اطاعت کا اقرار کر چکے تو پھر انہیں امام کے منہ کی طرف دیکھتے رہنا چاہئے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس کے قدم اُٹھانے کے بعد اپنا قدم اُٹھانا چاہئے۔اور افراد کو کبھی بھی ایسے کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے جن کے نتائج ساری جماعت پر آ کر پڑتے ہوں کیونکہ پھر امام کی ضرورت اور حاجت ہی نہیں رہتی۔اگر ایک شخص اپنے طور پر دوسری قوموں سے لڑائی مول لے لیتا ہے اور ایسا فتنہ یا جوش پیدا کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں ساری جماعت مجبور ہو جاتی ہے کہ اس لڑائی میں شامل ہو تو اس کے متعلق یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ اس نے امام اور خلیفہ کے منصب کو چھین لیا اور خود امام اور خلیفہ بن بیٹھا اور وہ فیصلہ جس کا اجراء خلیفہ اور امام کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے تھا خود ہی صادر کر دیا۔اگر ہر شخص کو یہ اجازت ہو تو تم ہی بتاؤ پھر امن کہاں رہ سکتا ہے۔ایسی صورت میں جماعت کے نظام کی مثال اُس ٹین کی سی ہوگی جو کتے کی دم سے باندھ دیا جاتا ہے اور جدھر جاتا ہے ساتھ ساتھ ٹین بھی حرکت کرتا جاتا ہے۔امام کا مقام تو یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ پابندی کرے۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے دوستوں نے باوجود بیعت کر لینے کے ابھی تک بیعت کا مفہوم نہیں سمجھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بہت بڑی ذمہ داری جماعت کے علماء پر ہے۔وہ خلافت اور اس کی اہمیت پر تقریریں کرنے سے ساکت رہتے ہیں اور ان کے لیکچر ہمیشہ اور اور مضامین پر ہوتے ہیں۔اس امر کے متعلق بہت ہی کم دلائل قرآن مجید یا احادیث یا عقل سے دیئے جائیں گے کہ خلافت سے وابستگی کتنی اہم چیز ہے۔وہ سمجھتے ہیں شاید لوگ ان مسائل کو جانتے ہی ہیں اس لئے ان مسائل پر زور دینے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ یہی وہ خیال تھا جس نے پہلے مسلمانوں کو تباہ کر دیا۔گزشتہ علماء نے خیال کرلیا کہ توحید پر زور دینے کی کیا ضرورت ہے۔بھلا کوئی مسلمان ایسا بھی ہوسکتا ہے جو تو حید کو نہ مانے۔نتیجہ یہ ہوا کہ تو حید اُن کے ہاتھ سے جاتی رہی۔انہوں نے خیال کر لیا کہ رسالت پر ایمان لانے کی اہمیت واضح کرنے کی کیا حاجت ہے یہ تو ایک صاف اور واضح مسئلہ ہے۔