خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 82
خلافة على منهاج النبوة ۸۲ جلد دوم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور وہ فوت نہیں ہوئے۔آپ آسمان پر خدا سے کوئی حکم لینے کیلئے گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں واپس آ جائیں گے اور منافقوں کو سزا دیں گے۔چنانچہ انہوں نے اس بات پر اتنا اصرار کیا کہ انہوں نے کہا اگر کسی نے میرے سامنے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُس کی گردن اُڑا دوں گا اور یہ کہہ کر ایک جوش اور غضب کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لٹکائے مسجد میں ٹہلنے لگ گئے۔کے لوگوں کو ان کی یہ بات اتنی بھلی معلوم ہوئی کہ ان میں سے کسی نے اس بات کے انکار کی ضرورت نہ سمجھی حالانکہ قرآن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ صاف طور پر لکھا ہوا تھا کہ الله آفَائِن مات أو قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُم اگر محمد رسول اللہ ﷺ فوت ہو جائیں یا خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ مگر با وجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی نص صریح موجود تھی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پانا ثابت ہو سکتا تھا پھر بھی انہیں ایسی ٹھوکر لگی کہ ان میں سے بعض نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ خیال کر لیا کہ آپ فوت نہیں ہوئے یہ منافقوں نے جھوٹی افواہ اُڑا دی ہے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ محبت کی شدت سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی ایسا ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں اور وہ زندہ رہیں۔بعض صحابہ جو طبیعت کے ٹھنڈے تھے انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو انہیں خیال آیا کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو کوئی ابتلا ء آ جائے چنانچہ وہ جلدی جلدی سے گئے اور حضرت ابو بکر کو بُلا لائے۔جب وہ مسجد میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ہر شخص جوش اور خوشی کی حالت میں نعرے لگا رہا ہے اور کہہ رہا ہے منافق جھوٹ بولتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔گویا ایک قسم کے جنون کی حالت تھی جو ان پر طاری تھی۔جیسے میں نے کہہ دیا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو بتاؤں گا کہ آپ کی وفات پر دشمنوں نے جو فلاں اعتراض کیا ہے اُس کا یہ جواب ہے۔حضرت ابو بکر نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ اُس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک پڑا ہوا تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول کریم ﷺ کا کیا۔