خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 76
خلافة على منهاج النبوة ۷۶ جلد دوم وہ آپ کی اطاعت کرتے تھے اسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں مگر یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ لوگ آپ کی محبت سے اطاعت کرتے تھے یا دباؤ سے بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اقتدار ملک اور جان پر دیا تھا یا نہیں؟ اسی طرح نہ ماننے والوں پر آپ کو کوئی اختیار دیا تھا یا نہیں ؟ اگر قرآن میں صرف احکام بیان ہوتے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کسی قسم کی سزا کا ذکر نہ ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام دیئے اور صحابہ نے اُس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا ان احکام کو قبول کر لیا۔مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ قرآن میں سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر فلاں جرم کرو گے تو تمہیں یہ سزا ملے گی اور فلاں جرم کرو گے تو یہ سزا ملے گی اور جب کہ قرآن نے سزائیں بھی مقرر کی ہیں تو معلوم ہوا کہ محبت کا اصول گلیہ درست نہیں کیونکہ جہاں احکام کی اطاعت محض محبت سے وابستہ ہو وہاں سزائیں مقرر نہیں کی جاتیں۔پھر اسلام نے صرف چندا حکام نہیں دیئے بلکہ نظام حکومت کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔گو بعض جگہ اس نے تفصیلات کو بیان نہیں بھی کیا اور اس میں لوگوں کیلئے اُس نے اجتہاد کے دروازہ کو کھلا رکھا ہے تا کہ اُن کی عقلی اور فکری استعدادوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔چنانچہ بعض امور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے اصل اسلامی مسئلہ لوگوں کے سامنے پیش کیا اور بعض امور میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے حالات پیش آمدہ کے مطابق لوگوں کی رہبری کی بلکہ بعض امور ایسے ہیں جن کے متعلق آج تک غور و فکر سے کام لیا جا رہا ہے۔خیار بلوغ کا مسئلہ مثلاً باپ اگر بیٹی کا بلوغت سے پہلے نکاح کر دے تو بالغ ہونے پر اسے فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے یا نہیں ؟ یہ ایک سوال ہے جو عام طور پر پیدا ہوتا رہتا ہے۔فقہ کی پُرانی کتابوں میں یہی ذکر ہے کہ باپ اگر بیٹی کا نکاح کر دے تو اُسے خیار بلوغ حاصل نہیں ہوتا مگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق ہے کہ اگر وہ بالغ ہونے پر اس رشتہ کو پسند نہ کرے تو اسے رد کر دے۔اسی طرح اور بہت سے فقہی مسائل ہیں جو اسلامی تعلیم کے ماتحت آہستہ آہستہ