خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 77

خلافة على منهاج النبوة LL جلد دوم نکلتے آتے ہیں اور بہت سے آئندہ زمانوں میں نکلیں گے۔پس ہمیں تفصیلات سے غرض نہیں اور نہ اس وقت یہ سوال پیش ہے کہ اسلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی خاص رنگ کی حکومت دی تھی یا نہیں کیونکہ نظام حکومت علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔انگلستان کا امریکہ سے امریکہ کا روس سے اور روس کا جرمنی سے نظام حکومت مختلف ہے مگر اس اختلاف کی وجہ سے یہ تو نہیں کہ ایک کو ہم حکومت کہیں اور دوسرے کو ہم حکومت نہ کہیں۔حکومت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی خاص نظام مقر ر کیا جائے اور لوگوں کی باگ ڈور ایک آدمی یا ایک جماعت کے سپر د کر کے ملکی حدود کے اندر اس کو قائم کیا جائے۔پس دیکھنا یہ ہے کہ کسی نظام کا خواہ وہ دوسرے نظاموں سے کیسا ہی مخالف کیوں نہ ہو ا سلام حکم دیتا ہے یا نہیں اور اُس نظام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلاتے تھے یا نہیں۔اسلام ملکی اور قانونی نظام کا قائل ہے اس میں کوئی شب نہیں کہ اسلام ملوکیت کا قائل نہیں کیونکہ ملوکیت ایک خاص معنی رکھتی ہے اور اُن معنوں کی حکومت کا اسلام مخالف ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق بھی فرمایا کہ میں بادشاہ نہیں اور خلفاء کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملوک کا لفظ استعمال نہیں فرمایا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اسلام مذہبی طور پر کسی بھی ملکی نظام کا قائل نہیں۔اگر کوئی نظام قرآن اور اسلام سے ثابت ہو تو ہم کہیں گے کہ اسلام ملوکیت کا بے شک مخالف ہے مگر ایک خاص قسم کے نظام کو اس کی جگہ قائم کرتا ہے اور وہ اسلام کا مذہبی حصہ ہے اور چونکہ وہ مذہبی حصہ ہے اس کا قیام مسلمانوں کیلئے ضروری ہے جہاں تک اُن کی طاقت ہو۔حکومت در حقیقت نام ہے ملکی حدود اور اس میں خاص اختیارات کے اجراء کا۔کسی خاص طرز کا نام نہیں۔اور ملکی حدود اور خاص اختیارات کا نفاذ قرآن کریم سے ثابت ہے۔جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے جن کو میں ابھی پیش کر چکا ہوں۔پس جب کہ ایک ملکی حد اور اس حد میں ایک خاص قانون اور ایک اصلی باشندے ملک کے اور ایک معاہد اور ایک غیر ملکی کا وجود پایا جاتا ہے تو ایک خاص نظام حکومت بھی ثابت ہے اس کا نام ہم بھی ملوکیت نہیں رکھتے کیونکہ ملوکیت ایسے معنوں کی حامل ہے جن کی اسلام اجازت نہیں