خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 68
خلافة على منهاج النبوة صلى الله ۶۸ جلد دوم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول کریم ﷺ کا طریق حکومت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق حکومت کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپ کا طریق حکومت یہ نہیں تھا کہ آپ ہر بات میں لوگوں کا مشورہ قبول کرتے۔اور اس کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ کوئی کہہ سکتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت وہی فیصلہ کیا کرتے تھے جو قوم کا فیصلہ ہوا کرتا تھا جیسے پارلیمنٹیں ملک کے نمائندوں کی آواز کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔اسی طرح کوئی کہ سکتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک کا فیصلہ ہی لوگوں سے منواتے تھے اپنا قانون ان میں نافذ نہیں کرتے تھے۔سواللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کر دیا اور خود مُلک والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر ہمارا رسول تمہاری کثرتِ رائے کے ماتحت دیئے ہوئے اکثر مشوروں کو قبول کر لے تو تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا یہ طریق نہیں تھا کہ آپ کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کرتے بلکہ جب کثرتِ رائے کو مفید سمجھتے تو کثرتِ رائے کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیتے اور جب کثرتِ رائے کو مضر سمجھتے تو اس کے خلاف فیصلہ کرتے۔كَثِیرٍ مِّنَ الْأَمْرِ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات قبول کر لیتے بلکہ آپ کو اختیار تھا کہ جب آپ لوگوں کی رائے میں کسی قسم کا نقص دیکھیں تو اسے رد کر دیں اور خود اپنی طرف سے کوئی فیصلہ فرما دیں۔(1) پھر فرماتا ہے۔خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ے کہ اے محمد یہ ان کے اموال سے صدقہ لو اور اس کے ذریعہ ان عليه کے دلوں کو پاک کرو۔ان کی اقتصادی حالت کو درست کرو۔وَصَلّ عَلَيْهِمْ اور پھر ہمیشہ ان سے نرمی کا معاملہ کرتے رہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین احکام دیئے ہیں۔اول یہ کہ لوگوں سے زکوۃ لو کیونکہ اس کے ذریعہ ان کے دلوں میں غریبوں سے پیار اور حسن سلوک کا مادہ پیدا ہو گا۔دوسرا حکم یہ دیا کہ زکوۃ کے روپیہ کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اس سے غرباء کی حالت درست ہوا اور وہ بھی دنیا میں ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکیں۔