خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 69
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم تیسرا حکم صلّ TALE کے الفاظ میں یہ دیا کہ زکوۃ کے لینے میں سختی نہ کی جائے بلکہ ہمیشہ حکم کا نرم پہلو اختیار کیا جائے۔اسی وجہ سے رسول کریم ہے جب محصلین کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجتے تو آپ ہمیشہ یہ تاکید فرمایا کرتے کہ موٹا دُنبہ اور اونٹ چن کر نہ لینا بلکہ اپنی خوشی سے وہ جن جانوروں کو بطور زکوۃ دے دیں اُنہی کو لے لینا اور یہ خواہش نہ کرنا کہ وہ زیادہ اعلی اور عمدہ جانور پیش کریں۔گویا شرعاً اور قانو نا جس قدر نرمی جائز ہو سکتی ہے اُسی قدر نرمی کرنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے۔(۷) ساتویں آیت جس میں حکومت سے تعلق رکھنے والے امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلْفٌ رَسُولِ اللهِ وَكَرِهُوا ان يُجَاهِدُوا يا مُوَالِهِمْ وَانْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لا تَنْفِرُوا في نَارُ جَهَنَّمَ اشَدُّ حَرَا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ ١٣ یعنی وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے غضب کے ماتحت اس امر کی توفیق نہ پا سکے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لئے نکلیں اور جنگ میں شامل ہوں ، وہ اپنے پیچھے ہنے پر بہت ہی خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات کو بُراسمجھا کہ وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں۔اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ سخت گرمی کا موسم ہے ایسے موسم میں جہاد کیلئے نکلنا تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُل نَارُ جَهَنَّمَ اشَدُّ حرا تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اب گرمی کا بہانہ بنا کر تو تم پیچھے رہ گئے ہو مگر یا درکھو جہنم کی آگ کی تپش بہت زیادہ ہوگی۔کاش وہ اس امر کو جانتے اور سمجھتے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے صریح لفظوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاد کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ سپاہی بنو اور دشمنوں سے لڑو اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ تیرے حکم کے ما تحت لڑنے کے لئے نہیں نکلیں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم قرار پائیں گے۔(۸) پھر فرماتا ہے۔اِنَّمَا جَزَ وا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَلُوا اَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ