خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 62
خلافة على منهاج النبوة ۶۲ جلد دوم الله کی ہے۔پس جو شخص اسلام کو مانتا ہے اور اس میں حکومت کے متعلق تمام احکام کو تفصیل۔بیان کیا ہوا دیکھتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ بلکہ اسے تسلیم کرنا صلى الله پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کے وہ افعال جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قابلِ تقلید ہیں جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے متعلق احکام۔کیونکہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ نماز پڑھو ، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ روزے رکھو ، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ حج کرو ، جس خدا نے یہ کہا ہے کہ زکوۃ دو اُسی خدا نے امور سیاست اور تنظیم ملکی کے متعلق بھی احکام بیان کئے ہیں۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر قوم اور ہر ملک آزاد ہے کہ اپنے لئے ایک مناسب طریق ایجاد کر لے اور جس طرح چاہے رہے بلکہ اسے اپنی زندگی کے سب شعبوں میں اسلامی احکام کی پابندی کرنی پڑے گی کیونکہ اگر رسول کریم ہو نے یہ اپنی طرف سے کیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ لوگ اس بارہ میں آزاد ہیں مگر جب ہم کہتے ہیں کہ یہ احکام قرآن مجید میں آئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیان کیا تو معلوم ہوا کہ یہ رسول کریم ﷺ کا ذاتی فعل نہیں تھا۔اور جبکہ قرآن نے ان تمام امور کو بیان کر دیا ہے جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو عقل یہ تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے حکومت سے تعلق رکھنے والی تو ساری باتیں بیان کر دی ہوں مگر یہ نہ بتایا ہو کہ حکومت کو چلا یا کس طرح جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص مکان بنانے کیلئے لکڑیاں جمع کرے ، کھڑکیاں اور دروازے بنوائے ، اینٹوں اور چونے وغیرہ کا ڈھیر لگا دے مگر جب کوئی پوچھے کہ عمارت کب بنے گی اور اس کا کیا نقشہ ہوگا ؟ تو وہ کہے کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔صاف بات ہے کہ جب اس نے اینٹیں اکٹھی کیں، جب اس نے دروازے کھڑکیاں اور روشندان بنوائے ، جب اس نے چونے اور گارے کا انتظام کیا تو آخر اسی لئے کیا کہ وہ مکان بنائے اس لئے تو نہیں کیا کہ وہ چیزیں بے فائدہ پڑی رہیں اور ضائع ہو جائیں۔اسی طرح جب قرآن نے وہ تمام باتیں بیان کر دی ہیں جن کا حکومت کے ساتھ تعلق ہوا کرتا ہے تو عقل انسانی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے نظام حکومت چلانے کا حکم نہ دیا ہو اور نہ یہ بتایا ہو کہ اس نظام کو کس رنگ میں چلایا جائے اور اگر وہ یہ نہیں بتا تا تو تم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ قرآن نَعُوذُ بِاللهِ ناقص ہے۔