خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 49

خلافة على منهاج النبوة ۴۹ جلد دوم ڈ نیوی چیز ہے دینی چیز نہیں تو اُمّتِ مسلمہ کے نظام کو کسی مذہبی مسئلہ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں پھر اس پر مذہبی نقطہ نگاہ سے غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنا دین اُتارا اور ہم نے اسے مان لیا اب اسے اس امر میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں کہ ہم اپنے لئے کونسا نظام تجویز کرتے ہیں یہ ہر زمانہ میں مسلمانوں کی مرضی پر منحصر ہے وہ جس طرح چاہیں اس کا فیصلہ کر لیں۔اگر مناسب سمجھیں تو ایک خود مختار بادشاہ پر متفق ہو جائیں، چاہیں تو جمہوریت کو پسند کر لیں ، چاہیں تو بولشویک اصول کو قبول کر لیں اور چاہیں تو آئینی بادشاہت کے طریق کو اختیار کر لیں کسی ایک اصل کو مذہب کے نام پر رائج کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ مفید ہوسکتا ہے اصل غرض تو دین کو پھیلانا ہے۔بھلا اس میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے کہ وہ نظام کیسا ہو جس کے ماتحت کام کیا جائے۔موجودہ زمانہ میں کو تعلیم یافتہ مغرب زدہ نو جوانوں نے اس بحث کو اُٹھایا ہے اور درحقیقت اس کے پیچھے وہ غلط حریت کی روح کام کر رہی ہے جو مختلف خیالات فلاسفہ سے متأثر ہو کر مسلمانوں میں موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ہے۔وہ اس سوال کو بار بار اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس رنگ میں مذہب بدنام ہوتا اور کو تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے بدظن ہوتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ مذہب کو اپنی جگہ پر رہنے دو اور سیاست کو اپنی جگہ۔مغربی اثر کے ماتحت خیالات کی یہ رومدت سے چل رہی تھی مگر مسلمانوں میں سے کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ عَلَی الْاِعلان اس کا اظہار کرے۔جب سر کی خلافت تباہ ہوئی اور کمال اتاترک نے خلافت کو منسوخ کر دیا تو عالم اسلامی میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اور پرانے خیالات کے جو لوگ تھے انہوں نے خلافت کمیٹیاں بنائیں۔ہندوستان میں بھی کئی خلافت کمیٹیاں بنیں اور لوگوں نے کہا کہ ہم اس رو کا مقابلہ کریں گے مگر وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات پیدا ہو چکے تھے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک فاتح بادشاہ جس کی لوگوں کے دلوں میں بہت بڑی عزت ہے اُس نے اپنے عمل سے اُن کے خیالات کی تائید کر دی ہے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو گئے اور اُن میں سے بعض نے اس کے متعلق رسائل لکھے۔اس قسم کے رسائل مسلمانوں نے بھی لکھے ہیں، یورپین لوگوں