خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 47

خلافة على منهاج النبوة ۴۷ جلد دوم خلافت راشده ( تقریر فرموده ۲۸ ، ۲۹ دسمبر ۱۹۳۹ء بر موقع [ خلافت جو بلی ] جلسه سالا نہ قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خلافت کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی ضرورت "میرا طریق ہے کہ ہر جلسہ سالانہ پر میں ایک علمی تقریر کیا کرتا ہوں اسی کے مطابق میں آج ایک اہم موضوع کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور چونکہ یہ جلسہ اس بات میں خصوصیت رکھتا ہے کہ اس کا تعلق ” خلافت جوبلی کے ساتھ ہے اور اس کے مضامین کا تعلق بھی مسئلہ خلافت سے ہی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں میری تقریر میں بھی زیادہ تر خلافت کے مختلف پہلوؤں پر ہی بحث ہونی چاہئے۔ممکن ہے بعض لوگوں کیلئے یہ امر ملال طبع کا موجب ہو کہ جو شخص بھی تقریر کیلئے اٹھتا ہے وہ خلافت کے موضوع پر تقریر کرنا شروع کر دیتا ہے مگر اس موضوع کی اہمیت اور موجودہ جلسہ سالانہ کا اقتضاء یہی ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق عمدگی کے ساتھ تمام قسم کی تفصیلات بیان کر دی جائیں کیونکہ جس طرح انسانی فطرت میں یہ امر داخل ہے کہ اگر اسے کھانے کیلئے مختلف قسم کی چیزیں دی جائیں تو اُسے فائدہ ہوتا ہے اسی طرح بعض دفعہ ایک ہی چیز بار بار بھی کھانی پڑتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں اور عیدالاضحیہ کے ایام میں تو خصوصیت کے ساتھ گوشت کے سوا اور کوئی غذا ہی نہیں ہوتی۔چنانچہ حج کے دنوں میں بڑی کثرت سے بکرے وغیرہ ذبح ہوتے ہیں اور اُن کا گوشت جتنا کھایا جا سکتا ہے کھا لیا جاتا ہے اور باقی پھینک دیا جاتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ ایک ہی عنوان پر مختلف رنگوں میں روشنی ڈالنا بھی ضروری ہوتا ہے۔