خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 45
خلافة على منهاج النبوة ۴۵ جلد دوم صحابہ ہی جھنڈا بنا جاتے تو کیا اچھا ہوتا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ایک مجلس میں یہ سُنا ہے کہ ہمارا ایک جھنڈا ہونا چاہئے۔جھنڈ ا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”لوائے ماپنہ ہر سعید خواهد بود یعنی میرے جھنڈے کی پناہ ہر سعید کو حاصل ہوگی اور اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کریں تا سعید روحیں اس کے نیچے آ کر پناہ لیں۔یہ ظاہری نشان بھی بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں۔جنگ جمل میں حضرت عائشہ ایک اونٹ پر سوار تھیں دشمن نے فیصلہ کیا کہ اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو آپ نیچے گر جائیں اور آپ کے ساتھی لڑائی بند کر دیں لیکن جب آپ کے ساتھ والے صحابہ نے دیکھا کہ اس طرح آپ گر جائیں گی تو گو آپ دین کا ستون نہ تھیں مگر بہر حال رسول کریم ﷺ کی محبت کی مظہر تھیں اس لئے صحابہ نے اپنی جانوں سے ان کے اونٹ کی حفاظت کی اور تین گھنٹہ کے اندر اندر ستر جلیل القدر صحابی کٹ کر رگر گئے۔کے قربانی کی ایسی مثالیں دلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔پس جھنڈا نہایت ضروری ہے اور بجائے اس کے کہ بعد میں آ کر کوئی بادشاہ اسے بنائے یہ زیادہ مناسب ہے کہ یہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اور موعودہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے تو بعد میں کوئی جھنڈا کسی کیلئے سند نہیں ہو سکتا۔چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا بناتے ہیں اور جاپانی کہیں گے اپنا اور اس طرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی۔آج یہاں عرب ، سماٹری ، انگریز سب قوموں کے نمائندے موجود ہیں ایک انگریز نو مسلمہ آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ایڈریس بھی پیش کیا ہے۔جاوا ، سماٹرا کے نمائندے بھی ہیں ، افریقہ کے بھی ہیں انگریز گویا یورپ اور ایشیا کے نمائندے ہیں۔افریقہ کا نمائندہ بھی ہے امریکہ والوں کی طرف سے بھی تار آ گیا ہے اور اس لئے جو جھنڈا آج نصب ہوگا اس میں سب تو میں شامل سمجھی جائیں گی اور وہ جماعت کی شوکت کا نشان ہو گا اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا بھی بن جاتا تا بعد میں اس کے متعلق کوئی اختلافات پیدا نہ ہوں۔پھر یہ رسول کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک شعر کو بھی پورا کرتا