خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 42
خلافة على منهاج النبوة ان کو وسیع کیا جائے۔۴۲ جلد دوم میں چاہتا ہوں کہ اس رقم کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اس کی آمد میں سے خرچ ہوتا ر ہے اور سرمایہ محفوظ رہے۔جیسے تحریک جدید کے فنڈ کے متعلق میں کوشش کر رہا ہوں تاکسی سے پھر چندہ مانگنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔اس میں دینی تعلیم جو خلفاء کا کام ہے وہ بھی آ جائے گی پھر آرٹ اور سائنس کی تعلیم نیز غرباء کی تعلیم و ترقی بھی خلفاء کا اہم کام ہے۔ہماری جماعت کے غرباء کی اعلیٰ تعلیم کے لئے فی الحال انتظامات نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گند ذہن لڑکے جن کے ماں باپ استطاعت رکھتے ہیں تو پڑھ جاتے ہیں مگر ذہین بوجہ غربت کے رہ جاتے ہیں۔اس کا نتیجہ ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس رقم سے اس کا بھی انتظام کیا جائے اور میں نے تجویز کی ہے کہ اس کی آمد سے شروع میں فی الحال ہر سال ایک ایک وظیفہ مستحق طلباء کو دیا جائے۔پہلے سال مڈل سے شروع کیا جائے۔مقابلہ کا امتحان ہو اور جولڑ کا اول رہے اور کم سے کم ستر فی صدی نمبر حاصل کرے اسے انٹرنس تک بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ دیا جائے اور پھر انٹرنس میں اوّل ، دوم اور سوم رہنے والوں کو تمیں روپیہ ماہوار ، جوایف۔اے میں یہ امتیاز حاصل کریں انہیں ۴۵ روپے ماہوار اور پھر جو بی۔اے میں اول آئے اسے ۶۰ روپے ماہوار دیا جائے اور تین سال کے بعد جب اس فنڈ سے آمد شروع ہو جائے تو احمدی نوجوانوں کا مقابلہ کا امتحان ہو اور پھر جولڑ کا اول آئے اُسے انگلستان یا امریکہ میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تین سال کے لئے امداد دی جائے۔اس طرح غرباء کی تعلیم کا انتظا ہو جائے گا اور جوں جوں آمد بڑھتی جائے گی ان وظائف کو ہم بڑھاتے رہیں گے۔کئی غرباء اس لئے محنت نہیں کرتے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم آگے تو پڑھ نہیں سکتے خواہ مخواہ کیوں مشقت اُٹھائیں لیکن اس طرح جب ان کے لئے ترقی کا امکان ہوگا تو وہ محنت سے تعلیم حاصل کریں گے۔مڈل میں اول رہنے والوں کیلئے جو وظیفہ مقرر ہے وہ صرف تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء کے لئے ہی مخصوص ہو گا کیونکہ سب جگہ مڈل میں پڑھنے والے احمدی طلباء میں مقابلہ کے امتحان کا انتظام ہم نہیں کر سکتے۔یونیورسٹی کے امتحان میں امتیاز